تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 361
ایک ذرہ نیکی بھی کی ہوگی وہ اسے ضرور دیکھے گا۔پس بعد میں نجات کا ملنا ضروری ہوا۔قرآن کریم عذاب جہنم کو منقطع بتاتاہے ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر صحابہ اور بزرگ تابعین اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔اور خود قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے۔(۱) پہلا ثبوت پہلا ثبوت خود یہی آیت ہے۔اس جگہ پر دوزخ اور جنت دونوں کے لئے ایک ہی لفظ ’’اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ‘‘ وارد ہوا ہے مگر دوزخیوں کے متعلق آگے فرمایا ’’اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ‘‘ اور جنت کے ذکر میں ’’اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ‘‘ کے بعد ’’عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ‘‘ فرمایا۔’’اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ‘‘ میں زور دے کر بتلایا ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ سے ضرور نکالا جائے گا۔پہلے اِنَّ کا لفظ رکھا پھر رَبَّ کا لفظ پھر فَعَّالٌ کا لفظ جو کہ مبالغہ کا لفظ ہے اور پھر اس جملہ کو جملہ اسمیہ کے رنگ میں لاکر اور بھی تاکید کردی۔اگر ان کو نکالنا ہی نہ تھا تو پھر اتنا زور دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر جیسا کہ جنت کے لئے ’’عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ‘‘ رکھا ہے اگر دوزخ بھی اسی طرح سے غیرمنقطع تھی تو اس کے متعلق بھی ’’عِقَابًا غَیْرَمَجْذُوْذٍ‘‘ آجاتا۔جنت کے متعلق تو فرمایا کہ وہ رہیں گے تو ہماری مرضی کے مطابق مگر ہماری مرضی یہی ہے کہ ہمیشہ رہیں۔لیکن دوزخ کے متعلق ایسا مضمون کسی جگہ نہیں فرمایا۔یہ بات اتنی واضح ہے کہ ابن حجر جو اس مسئلہ میں ابن تیمیہ کے خلاف ہیں انہیں بھی کہنا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق تو اپنی مشیت بتادی مگر دوزخیوں کے متعلق خاموش رہا ہے۔خاموشی کا دعویٰ بھی غلط ہے اللہ تعالیٰ نے تواِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ فرماکر بتلا دیا ہے کہ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ میں جس طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے اللہ تعالیٰ ضرور پورا کرکے رہے گا۔(۲) دوسرا ثبوت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۔اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ (ھود:۱۱۹،۱۲۰) اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو امت واحدہ بنادیتا مگر وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔سوائے ان کے جن پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے ان لوگوں کو رحم کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ کے معنی وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ سے رحم ہی مراد ہے۔ابن کثیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے لِلرَّحْمَۃِ خَلَقَھُمْ وَلَمْ یَخْلُقْھُمْ لِلْعَذَابِ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ولو شاء ربک لجعل الناس۔۔) کہ اللہ تعالیٰ نے رحم کے لئے ہی بندوں کو پیدا کیا ہے اور عذاب کے لئے نہیں پیدا کیا۔اور ابن وہب نے طاؤس کے متعلق روایت کی ہے کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔طاؤس نے انہیں کہا کہ تم کیوں جھگڑتے ہو۔ایک نے ان میں سے کہا لِذَالِکَ خُلِقْنَا۔یعنی خدا نے ہمیں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔طاؤس