تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 28
کرسکتے۔صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض تغیرات ہزار ہزار سال میں ہوئے۔بعض پچاس پچاس ہزار سال میں۔بعض اس سے بھی بہت زیادہ عرصہ میں۔پیدائش عالم کی تفصیل حدیث میں حدیث میں پیدائش عالم کی ایک تفصیل آتی ہے۔اس کا ذکر کردینا بھی یہاں ضروری ہے۔حضرت ابوہریرۃؓ کی روایت ہے کہ اَخَذَرَسُوْلُ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ بِیَدِیْ وَقَالَ خَلَقَ اللہُ التُّرْبَۃَ یَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِیْھَا یَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِیْھَا یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَخَلَقَ الْمَکْرُوْہُ یَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّوْرَ یَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِیْھَا الدَّوآبُّ یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَخَلَقَ اٰدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اٰخِرُ الْخَلْقِ فِی اٰخِرِ السَّاعَۃِ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَۃِ فِی مَابَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی الَّلیْلِ۔(تفسیر ابن کثیر زیرآیۃ فی ستۃ ایام سورۃ اعراف) نسائی نے بھی اس کو بیان کیا ہے مگر دوسرے راویوں کی روایت سے۔بخاری اور بعض دوسرے محققین کے نزدیک یہ حدیث مرفوع نہیں۔بلکہ ابوہریرہؓ نے اسے کعب الاحبار سے سنا ہے۔اس حدیث کی رو سے ہفتہ کے دن زمین کو پیدا کیا۔اتوار کے دن پہاڑ پیدا کئے۔پیر کے دن درخت، منگل کے دن مصیبتیں اور بلائیں۔بدھ کو نور اور برکتیں، جمعرات کو حیوان، جمعہ کے دن عصر سے شام تک دن کی آخری گھڑی میں آدم کو۔حضرت مسیح موعودؑ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا ہوئے۔اور اس سے اپنے متعلق استدلال کیا ہے۔(خطبہ الہامیہ ضمیمہ (ب) و صفحہ ۱۲۳) پیدائش عالم کا ذکر بائبل میں بائبل میں پیدائش عالم کا ذکرا س طرح ہے۔خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔اس کے بعد خدا نے اجالا پیدا کرکے اندھیرے اور اجالے کو جدا کیا اور یہ پہلا دن ہوا۔اور پھر خدا نے پانیوں کے درمیان فضا بنائی اور فضا کو آسمان کہا اور یہ دوسرا دن ہوا۔پھر پانی سب اکٹھے ہو گئے اور خشکی نکل آئی۔تو وہ زمین ہو گئی۔اور جمع شدہ پانی سمندر ہو گئے۔اور پھر سبزیاں و نباتات بنائیں اور یہ تیسرا دن ہوا۔پھر چاند اور سورج اور ستارے پیدا کئے اور یہ چوتھا دن ہوا۔پھر رینگنے والے جانور اور پرندے پیدا کئے اور یہ پانچواں دن ہوا۔اس کے بعد مویشی، کیڑے مکوڑے اور جنگلی جانور پیدا کئے اور سب سے آخر انسان کو اپنی صورت پر اور اپنی مانند پیدا فرمایا۔اور یہ چھٹا دن ہوا۔(پیدائش باب اول) ستة ایام کی تفصیل قرآن کریم میں قرآن کریم میں سورۂ حٰم سجدہ ع۲ میں چھ دنوں کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔