تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 27
يُدَبِّرُ الْاَمْرَ کہہ کر یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو کُنْ فَیَکُوْنُ کے الفاظ آتے ہیں یعنی وہ کہتا ہے ہوجا پس ہوجاتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے حکموں کو فوراً پورا کرواتا ہے۔وقت کی حدبندی نہیں کرتا۔بلکہ اس کے احکام بھی تدبیر پر مشتمل ہوتے ہیں۔یعنی باریک اورمخفی تدابیر سے کام لے کر وہ نتائج پیدا کرتا ہے۔اور تدبیر کے معنی ہی یہ ہیں کہ اسباب میں ایسا تغیر کیا جائے کہ طبعی نتائج منشاء کے مطابق پیدا ہوجائیں۔اصلاح عالم کا مقام اذن پر موقوف ہے مَا مِنْ شَفِيْعٍ میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والا وجود صرف اس کے حکم سے ہی کھڑا ہوسکتا ہے۔اپنے پاس سے کوئی شخص اس رتبہ کو نہیں پاسکتا۔پس یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایسے تاریک زمانہ میں اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا اذن دے کر نہ کھڑا کرتا اور اپنے بندوں کو یونہی چھوڑ دیتا۔اس آیت میں بعض امور قابل تشریح ہیں۔ان کی تشریح میںذیل میں کرتا ہوں۔یوم سے مراد فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ میں یوم سے مراد یہاں سورج سے تعلق رکھنے والا دن نہیں۔مجاہد۔احمد بن حنبل۔ابن عباس بروایت ضحاک (تفسیر ابن کثیر سورة الاعراف زیر آیۃ فی ستۃ ایام) اور زید بن ارقم (روح المعانی سورة الاعراف زیر آیۃ فِیْ سِتَّۃَ اِیَّامٍ) کا مذہب ہے کہ ایک ایک دن سے مراد ہزار ہزار سال ہے۔گویا ان کے نزدیک زمین و آسمان چھ ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں۔یہ بات انہوں نے اس آیۃ سے اخذ کی ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔(الحج :۴۸) خدا کے نزدیک ایک ایک دن ہزار ہزار سال کا ہے۔یوم کے معنی جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے عربی میں مطلق وقت کے بھی ہوتے ہیں۔اور یہی معنی یہاں لگتے ہیں کیونکہ دن رات زمین کے سورج کے سامنے گھومنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اور اس آیۃ میں سورج اور چاند اور زمین کی پیدائش کا ذکر ہے۔پس اس وقت یہ دن رات ہوتے ہی نہ تھے۔اس لئے یہاں مراد وقت ہے نہ کہ صبح و شام والا دن۔پس ان کا یہ استدلال صحیح معلوم ہوتا ہے۔مگر یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ یہ یوم ہزار ہزار سال ہی کا تھا یہ صحیح نہیں۔قرآن مجید نے تو یہ بھی کہا ہے کہ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ ( المعارج:۵ ) کہ خدا کا ایک دن پچاس ہزار سال کا بھی ہوتا ہے۔اگر یہ دن یہاں مراد لیں تو زمین و آسمان کی پیدائش کا عرصہ تین لاکھ سال بنتا ہے۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ کیا یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے سارے دن ہمیں بتائے ہوں۔اگر ہزار سال کا یا پچاس ہزار سال کا اس کا دن ہوتا ہے تو ممکن ہے لاکھ یا پچاس لاکھ یا کروڑ یا ارب سال کا بھی اس کا کوئی دن ہوتا ہو۔سائنس سے پتہ لگتا ہے کہ اربوں سال زمین و آسمان کے بننے میں لگے۔اور حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کے ایک کشف سے بھی ایسا ہی پتہ لگتا ہے۔پس حق یہی ہے کہ ہم اس عرصہ کی حدبندی ابھی پوری طرح نہیں