تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 348

آگ کے لئے استعمال کرکے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ پانی جو روحانی اور جسمانی حیات کا باعث ہے۔چنانچہ فرمایا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْ ئ ٍحَيٍّ (الانبیاء:۳۱)اس کی بجائے انہیں آگ دی جائے گی جو حیات کو تباہ کرنے والی ہے۔اور اس طرح ان کی اپنی کوششیں جو بجائے روحانی حیات کے حصول کے اس کے تباہ کرنے میں خرچ ہوتی تھیں ان کے لئے متمثل ہوجائیں گی۔پھر اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ داخل تو آگ میں ہوں گے مگر یہ داخلہ اسی طرح ہوگا جس طرح یہاں پیاسا پانی پر جاتا ہے۔یعنی اس ذریعہ سے بھی آخر ان کی روحانی پیاس بجھ جائے گی یعنی آگ ان کے پاک کرنے کا موجب ہو جائے گی اور آخر وہ اس راستہ سے گزر کر اپنی روحانی پیاس کو بجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔پرانے زمانہ میں داغ دینے کی رسم ہوا کرتی تھی۔یعنی جانور کے منہ پر یا پہلو میں نشان لگایا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ناپسند فرمایا(مسلم کتاب السلام باب لکل داء دواء، استحباب التداوی )۔لیکن چونکہ علاج کے طور پر بھی داغ دیا جاتا تھا فرمایا کہ اٰخِرُ الدَّوَاءِ الْکَیُّ کہ دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا پڑے تو آخری علاج کے طور پر داغ کو استعمال کرو۔ایسا ہی یہاں فرمایا کہ پانی کی بجائے ان کی پیاس کا علاج آگ سے کیا جائے گا۔اور وہ ان کا آخری اور انتہائی علاج ہوگا۔وَ اُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ اور اس دنیا میں (بھی) لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہےاور قیامت کے دن (بھی لگا دی جائے گی) یہ عطا جو الْمَرْفُوْدُ۰۰۱۰۰ ( انہیں) دی جانے والی ہے بہت (ہی )بری ہے۔حلّ لُغَات۔رَفَدَ۔رَفَدَہٗ یَرْفِدُ رَفْدًا۔اَعْطَاہُ اسے دیا۔اَعَانَہٗ۔اس کی مدد کی۔اور یہی معنی اس لفظ کے اس محاورہ میں ہیں کہ ’’ھُوَ نِعْمَ الرَّافِدُ اِذَا حَلَّ بِہِ الوَافِدُ۔‘‘ یعنی فلاں شخص کے پاس جب کوئی (طالب امداد) آتا ہے تو وہ اس کی خوب ہی امداد کرتا ہے۔اَلرِّفْدُ الْعَطَاءُ وَالصِّلَۃُ رفد کے معنی بخشش اور انعام کے ہوتے ہیں۔وَاَصْلُ الرِّفْدُ مَایُضَافُ اِلَی غَیْرِہٖ لِیَعْمِدَہٗ یعنی اصل میں رفد اس چیز کو کہتے ہیں جسے کسی دوسری چیز کو سہارا دینے کے لئے کھڑا کیا جائے۔یعنی ٹیک وَفیِ الْقُرْاٰنِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ۔اَیْ العَوْنُ الْمُعَانُ