تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 347
يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے( آگے) چلے گا اور ان کو( دوزخ کی) آگ میں (جا) اتارے گا اور وہ (ان الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۰۰۹۹ کے) اترنے کا گھاٹ بہت (ہی) برا ہے۔حلّ لُغَات۔قَدَمَ۔قَدَمَ الْقَوْمَ۔یَقْدُمُ قَدْمًا وَقُدُوْمًا۔سَبَقَہُمْ۔ان سے آگے نکل گیا۔فُلَانٌ عَلٰی قِرْنِہٖ شَجُعَ وَاجْتَرَءَ عَلَیْہِ اپنے دشمن پر دلیری سے حملہ کیا۔قَدِمَ عَلی الْعَیْبِ یَقْدَمُ رَضِیَ بِہٖ عیب پر راضی ہو گیا۔مِنْ سَفَرِہٖ عَادَ۔سفر سے واپس آیا۔وَالْبَلَدَ اَ تَاہُ شہر میں آیا۔(اقرب) اَوْرَدَ اَوْرَدَہ اِیْرَادًا اَحْضَرَہُ الْمَوْرِدُ۔ثُمَّ اسْتُعْمِلَ لِمُطْلَقِ الْاِحْضَارِ۔اَوْرَدَ کے اصل معنی ہیں گھاٹ پر لایا۔لیکن بعد میں مطلق حاضر کرنے کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہونے لگ گیاہے۔اس کا ثلاثی وَرَدَ یَردُ وَرُوْدًا ہے۔کہتے ہیں۔وَرَدَ الْبَعِیْرُ وَغَیْرُہُ الْمَاءَ وَغَیْرُہٗ بَلَغَہٗ وَدَانَاہُ مِنْ غَیْرِ دُخُوْلٍ۔وَقَدْ یَحْصُلُ دُخُوْلٌ فِیْہِ۔وَقَدْ لَا یَحْصُلُ۔یعنی یہ لفظ اونٹوں وغیرہ کے پانی وغیرہ پر جانے کے معنی دیتا ہے۔خواہ وہ اس کے اندر گئے ہوں یا نہ۔وَرَدَ زَیْدٌالْمَآءَ خِلَافَ صَدْرَعَنْہُ وَرَدَ کے معنی پانی کی طرف جانے کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) اَلْوِرْدُ۔اَلْعَطَشُ پیاس۔اَلْاِبِلُ الْوَارِدَۃُ۔اونٹ جو پانی پر آئیں۔اَلْجَیْشُ۔لشکر۔اَلْمَاءُ الَّذِیْ یُوْرَدُ گھاٹ۔اَلْقَوْمُ یُرِدُوْنَ الْمَآءَ پانی پر وارد ہونے والی جماعت۔اَلنَّصِیْبُ مِنَ الْمَآءِ پانی کا حصہ (اقرب) اَلْمَوْرِدُ۔گھاٹ۔پانی پینے کے لئے اترنے کی جگہ۔تفسیر۔یعنی عقلمند انسان تو اس چیز کی پیروی کرتا ہے جو اسے صحیح راستہ دکھائے اور اس کے لئے مفید ہو۔لیکن فرعون کی ہدایت اس کے برخلاف ہلاکت کی طرف لے جاتی تھی۔مگر پھر بھی یہ لوگ اس کے پیچھے چلتے تھے۔اَوْرَدَهُمُ النَّارَ میں بتلایا کہ قوم نے فرعون کا ساتھ دے کر کیا نتیجہ حاصل کیا۔یہی نہ کہ اس نے ان کو دوزخ میں لاڈالا۔اور یہ گھاٹ نہایت ہی خطرناک گھاٹ ہے۔پانی کی بجائے آگ اورد کا لفظ اصل میں پانی پر وارد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔مگر اس جگہ پر یہی لفظ