تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 346
(۹)بائبل بچھڑے کو معبود بنانے میں حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا شریک بلکہ اس شرک کا بانی قرار دیتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔’’اور خداوند نے ان کے بچھڑے بنانے کے سبب جسے ہارون نے بنایا تھا لوگوں پر مری بھیجی۔‘‘ (خروج ۳۵/۳۲) مگر قرآن مجید حضرت ہارونؑ کو اس قسم کے عیب سے بکلی بری قرار دیتا ہے بلکہ فرماتا ہے وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ (طٰہٰ:۹۱) یعنی حضرت ہارونؑ نے ان لوگوں کو بچھڑے کی عبادت سے منع کیا تھا۔ان اختلافات کے متعلق ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔خود مسیحی کتب ہی بائبل کے بیانات کو مخدوش قرار دیتی ہیں۔چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں موسیٰ ؑ کے لفظ کے ماتحت لکھا ہے کہ حمورابی تعلیم کا بہت سا حصہ بطور خلاصہ موسیٰ کی کتاب میں آ گیا ہے۔نیز ہارون کے شرک کے واقعہ کو بھی اس نے غلط قرار دیا ہے اور اس سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ بائبل میں کئی واقعات بعد میں بڑھا دیئے گئے ہیں۔ایک نئی تحقیق بہرحال عقل اور جدید تحقیق دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ قرآن کریم کا بیان گو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار سال بعد شائع ہوا درست ہے اور بائبل جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ موسیٰ کے وقت میں لکھی گئی اس کا بیان مشکوک ہے۔حضرت موسیٰ کا نام موسیٰ کیوں رکھا گیا۔اس کی وجہ بائبل نے یہ بتائی ہے کہ انہیں پانی سے بچا یا گیا تھا۔خروج ب۲ آیت ۱۰ لیکن تعجب یہ ہے کہ باوجود اس کے تورات ان کے پانی سے نکالنے کی منکر ہے۔لیکن قرآن کریم اس واقعہ کی تائید کرتا ہے۔ہارون کے معنی عبرانی زبان میں کوئی نہیں۔موجودہ محققین کہتے ہیں کہ شمالی عرب کی زبانوں میں سے یہ نام ہے۔(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Aaron) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک عبرانی لوگ اپنی اصلی زبان یعنی عربی سے تعلق رکھتے تھے۔