تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 345

خداوند عبرانیوں کے خدا نے ہم سے ملاقات کی اور اب ہم تیری منت کرتے ہیں ہم کو تین دن کی راہ بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے لئے قربانی کریں۔‘‘ (خروج ۱۸/۳) گویا ایک طرح سے دھوکہ کی تعلیم دی ہے۔مگر قرآن مجید صاف کہتا ہے کہ تم اس کے پاس جاکر یہ کہنا اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ (طٰہٰ :۴۸) کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔اور اس لئے آئے ہیں کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔کیا بنی اسرائیل کو لوگوں کے زیورات ساتھ لےجانے کا حکم دیا گیا تھا (۶)بائبل کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا ’’ہر ایک عورت اپنی پڑوسن سے اور اس سے جو اس کے گھر میں رہتی ہے روپے اور سونے کے برتن اور لباس عاریتاً لے گی اور تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناؤ گے اور مصریوں کو غارت کروگے۔‘‘ (خروج ۲۲/۳) مگر قرآن مجید فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں نہیں کہا تھا کہ زیور ساتھ لے آنا۔بلکہ وہ خود ہی لے آئے تھے اور یہ ان کی خیانت اور غداری تھی۔جیسا کہ فرماتا ہے وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ (طٰہٰ :۸۸) جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس دھوکہ کے خود ذمہ دار تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔حضرت موسیٰ کا ید بیضا کیا مبروص تھا ؟ (۷)بائبل میں حضرت موسیٰ ؑ کے معجزۂ ید بیضاء کے متعلق لکھا ہے ’’چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اپنی چھاتی پر چھپاکے رکھا۔اور جب اس نے اسے نکالا تو دیکھا کہ اس کا ہاتھ برف کی مانند سفید مبروص تھا۔‘‘ (خروج ۶/۴) یعنی ہاتھ سفید تھا۔مگر برص کے عیب کی وجہ سے وہ ایسا تھا اور قرآن مجید فرماتا ہے وَ اضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ اٰيَةً اُخْرٰى (طٰہٰ :۲۳) کہ وہ ہاتھ بے شک روشن اور چمکیلا تھا مگر کسی بیماری کی وجہ سے ایسا ہرگز نہ تھا بلکہ ایک نشان کے طور پر تھا۔کیا حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے مادری یا حقیقی بھائی نہ تھے (۸)بائبل حضرت ہارون کے متعلق کہتی ہے کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰ ؑ کے خاندان بنی لاوی کا ایک فرد ہونے کی رو سے ان کے بھائی تھے۔نہ حقیقی یا مادری بھائی۔چنانچہ لکھا ہے۔’’ اس (خدا) نے کہا کیا نہیں ہے لاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی۔میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے۔‘‘ (خروج ۱۴/۴) مگر قرآن مجید حضرت ہارونؑ کو موسیٰ ؑ کا سگا بھائی یا ماں کی طرف سے بھائی بتاتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَ لَا بِرَاْسِيْ۔(طٰہٰ:۹۵) کہ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ ؑ سے عرض کیا اے میری ماں کے بیٹے !میری ڈاڑھی اور میرے سر کے بالوں کو نہ پکڑ۔