تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 343
حالات مذکور ہیں۔وہ بیان قرآن مجید سے بعض باتوں میں مختلف ہے۔موسیٰ کو ان کی والدہ نے کہاں رکھا تھا (۱)بائبل کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے ان کو دریا میں نہیں ڈالا تھا بلکہ دریا کے کنارے ایک جھاؤ کے نیچے ایک ٹوکرے میں چھپا دیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے ’’تو اس نے (یعنی موسیٰ ؑ کی والدہ نے) سرکنڈوں کا ایک ٹوکرہ بنایا اور اس پر لاسہ اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاؤ میں رکھ دیا۔‘‘ (خروج ۳/۲) لیکن قرآن مجید سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس بچے کو دریا میں ڈال دیا تھا۔جیسا کہ فرمایا اِذْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا يُوْحٰۤى۔اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّيْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ (طٰہٰ :۳۹۔۴۰) کیا موسیٰ ؑنے مصری کو دانستہ قتل کیا تھا (۲)بائبل کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عبرانی اور مصری کے جھگڑے میں مصری کو عمداً مار ڈالا جیسا کہ لکھا ہے ’’دیکھا کہ ایک مصری ایک عبرانی کو جو اس (موسیٰ ؑ) کے بھائیوں میں سے ایک تھا مار رہا ہے۔پھر اس نے ادھر ادھر نظر کی اور دیکھا کہ کوئی نہیں تب اس مصری کو مار ڈالا اور ریت میں چھپا دیا۔‘‘ (خروج ۱۱،۱۲؍۲) مگر قرآن مجید فرماتا ہے فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلٰنِ١ٞۗ هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِهٖ عَلَى الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ (القصص :۱۶) یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے مصری کو صرف تنبیہہ کے طور پر ایک مکا مارا ان کا ارادہ قتل کا نہ تھا۔مگر وہ اتفاقاً مر گیا۔گویا بائبل حضرت موسیٰ ؑ کو قاتل قرار دیتی ہے مگر قرآن مجید ان کی بریت کرتا ہے۔کیا دوسرے دن جھگڑنے والے دونوں عبرانی تھے (۳)بائبل کہتی ہے کہ پہلے دن کے جھگڑے کے بعد دوسرے دن حضرت موسیٰ ؑ نے دو عبرانیوں کو لڑتے دیکھا چنانچہ لکھا ہے۔’’جب وہ دوسرے دن باہر گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ دو عبرانی آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔تب اس نے اس کو جو ناحق پر تھا کہا کہ تو اپنے یار کو کیوں مارتا ہے۔وہ بولا کس نے تجھے ہم پر حاکم یا منصف مقرر کیا۔آیا تو چاہتا ہے کہ جس طرح تو نے اس مصری کو مار ڈالا مجھے بھی مار ڈالے۔‘‘ (خروج ۱۳،۱۴/۲)مگر قرآن مجید فرماتا ہے کہ دوسرے دن بھی ایک مصری اور ایک عبرانی ہی لڑرہے تھے۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِي اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ يَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ۔فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ يَّبْطِشَ بِالَّذِيْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ يٰمُوْسٰۤى اَتُرِيْدُ اَنْ تَقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِيْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِي الْاَرْضِ وَ مَا تُرِيْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ