تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 342
جب کسی کے متعلق کہیں کہ لَہُ سُلْطَانٌ مُبِیْنٌ تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کے پاس روشن اور محکم دلیل ہے۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ موسیٰ ؑکے ذکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا ذکر کیوں نہیں اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ کی بعثت کے اس حصہ پر بحث ہے جو سزا ہی سزا کا رنگ رکھتا تھا۔یعنی آپ کی بعثت فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔یہ قوم ایمان نہ لائی اور تباہ کردی گئی اور یہی بحث اس سورۃ میں ہے۔بنی اسرائیل کا ذکر اس سورۃ میں نہیں کیا گیا کیونکہ وہ ایمان لائے اور نعمتوں کے وارث ہوئے۔فرعون کسی خاص شخص یا خاندان کا عَلم نہیں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں فرعون کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ فرعون شاہان مصر کا لقب ہوا کرتا تھا۔یعنی وادی نیل اور سکندریہ کا حکمران فرعون کہلاتا تھا۔یہ اصطلاح رومیوں کے آنے سے پہلے پہلے تھی۔رومیوں کے آنے پر حکومت غیرملکیوں میں چلی گئی اور فرعون کا لفظ مٹ گیا۔کیونکہ ان کے ہاں اپنے الگ القاب تھے۔دوسرے یہ کہ فرعون کسی ایک ہی خاندان کے بادشاہوں کا نام نہیں تھا بلکہ کئی خاندان گذرے ہیں جنہوں نے تین چار ہزار سال تک حکومت کی ہے۔کسی خاندان کے دس بادشاہ گزرے کسی کے بیس۔فرعون کو بنی اسرائیل کی طرف سے خطرہ کی وجہ مختلف خاندانوں کے حکمرانوں کو جنہوں نے وادی النیل اور سکندریہ پر حکومت کی یکے بعد دیگرے فرعون کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔یہ فرعون بھی جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے بنی اسرائیل کی طرح غیرملکی تھا۔اور اس لئے وہ بنی اسرائیل کی کثرت اولاد سے ڈرتا تھا اور اسے خوف تھا کہ مبادا وہ ملک کے اصلی باشندوں سے مل کر اس کو ملک سے نکال دیں۔یا بغاوت و جنگ کے لئے کھڑے ہوجائیں۔جیسا کہ خروج باب۱ آیت ۹،۱۰ میں لکھا ہے ’’اس نے اپنے لوگوں سے کہا دیکھو کہ بنی اسرائیل کے لوگ ہم سے زیادہ اور قوی تر ہیں۔آؤ ! ہم ان سے دانشمندانہ معاملہ کریں تا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہوں اور جنگ پڑے تو ہمارے دشمنوں سے مل جائیں اور ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔‘‘ ’’ہم سے زیادہ ‘‘ ہونے کا یہی مطلب ہے کہ وہ ہمارے خاندان یا نسل سے زیادہ ہیں نہ یہ کہ وہ تمام اہل ملک سے زیادہ ہیں۔موسیٰ کے متعلق بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں اختلاف انہی دنوں میں جبکہ فرعون بنی اسرائیل پر تشدد کررہا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔خروج باب ۲،۳،۴ میں ان کی پیدائش جوانی اور زندگی کے