تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 341

بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ ہوئے اس پر) ایمان لائے تھے اپنی (خاص) رحمت سے (اس عذاب سے )بچا لیا۔اور جنہوں نے ظلم (کا شیو ہ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَۙ۰۰۹۵كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا١ؕ اختیار) کیا تھا انہیں اس عذاب نے پکڑ لیا اور وہ اپنے (اپنے) گھروں میں زمین سے لپٹے ہوئے ہو گئے۔گویا وہ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُؒ۰۰۹۶ ان میں (کبھی) رہے( ہی) نہ تھے سنو! مدین کے لئے بھی( خدا کی جنا ب سے) دوری (ہو گئی) تھی۔جیسا کہ ثمود (خدا کی جناب سے) دور ہو گئے تھے۔تفسیر۔حضرت شعیب ایسے علاقہ میں تھے کہ جس میں زلزلے بہت کثرت سے آتے ہیں۔ممکن ہے کہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ان کی قوم پر زلزلہ کا عذاب آیا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ صیحہ سے مراد عام عذاب ہو۔اور گھٹنوں کے بل گرے ہوئے کے الفاظ مجازاً استعمال ہوئے ہوں۔کسی اورعذاب سے اس قوم کی شان و شوکت توڑ دی گئی ہو اور یہ لوگ ذلیل ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے ہوں۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۹۷اِلٰى اور ہم نے موسیٰ کو یقیناً یقیناً اپنے( ہر قسم کے) نشان اور روشن دلیل دے کر بھیجا تھا۔(ہم نے اسے) فرعون اور اس فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ کی قوم کے بڑے لوگوں کی طرف (بھیجا تھا) تو انہوں نے (ہمارے حکم کے خلاف) فرعون کے حکم کی پیروی کی اور بِرَشِيْدٍ۰۰۹۸ فرعون کا حکم ہرگز درست نہ تھا۔حلّ لُغَات۔سُلْطَانٌ۔اَلسُّلْطُانُ الْحُجَّۃُ محکم دلیل۔تَـقُوْلُ لَہٗ سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ۔اَیْ حُـجَّۃٌ۔یعنی