تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 335
ان کے اس سوال کا جواب کہ کیا تم ہمیں اس امر سے روکتے ہو کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کریں۔یہ دیا کہ خود میرا اپنا رویہ دیکھ لو کہ کیا میں اس تعلیم پر عمل کرتا ہوں کہ نہیں اگر میں خود بھی عامل ہوں تو میری نیک نیتی تو ثابت ہے۔اور اگر یہ خیال ہو کہ میں حکومت کرنی چاہتا ہوں تو یہ خیال تمہارا درست نہیں۔حکومت کے بغیر بھی انسان کو نصیحت کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔اور اس حق سے جہاں تک ہوسکے گا میں فائدہ اٹھاؤں گا۔باقی رہے نتائج سو ان سے مجھے کوئی تعلق نہیں۔میرا کام سمجھانا ہے اور ان کے نتائج پیدا کرنا خدائےتعالیٰ کے اختیار میں ہے۔نبوت کے مقام کی کیسی لطیف تشریح ہے۔ہر مامور کے سامنے یہی مشکلات پہلے آتی ہیں۔بلکہ ہر مبلغ کے سامنے بھی۔پہلے پہلے لوگ اس کی باتوں سے بہت گھبراتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعظ سے ان پر جبر کرتا ہے۔پھر مساوات دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا جو کچھ کہنا ہے کہتے جاؤ۔مگر نبی نہ اس وقت جب لوگ ناراض ہوتے ہیں اور نہ اس وقت جب لوگ پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں اپنے کام سے رکتے ہیں۔بلکہ دونوں حالتوں میں یکساں جدوجہد سے کام لیتے چلے جاتے ہیں۔اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھتے ہیں۔اور اس کے سوا ہر اک چیز کو بھلا دیتے ہیں۔وَ يٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْۤ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اور اے میری قوم (دیکھنا کہیں تمہاری ) مجھ سے دشمنی تمہیں یہ بات حاصل نہ کر وا دے کہ تم پر ویسی اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا (ہی)مصیبت آئے جیسی کہ نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر مصیبت آئی تھی اور قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ۰۰۹۰ لوط کی قوم( تو) تم سے کچھ( ایسی) دور کی( بھی) نہیں ہے۔حلّ لُغَات۔جَرَمَ جَرَمَ لِاَھْلِہٖ۔کَسَبَ کمایا۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْآنِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا۔اَیْ لَایَکْسِبَنَّکمْ۔یعنی کسی قوم کی دشمنی کے نتیجہ میں تمہارے دل میں بے انصافی نہ پیدا ہو