تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 26

تذکر تَذکَّرونصیغہ جمع مذکر مخاطب فعل مضارع معروف ہے۔تذکر الشیء: یاد کیا۔(اقرب) نصیحت اور تعلیم کو قبول کیا۔(تاج) ترتیب: قرآن کریم کی عادت ہے کہ جس آیت کے مضمون کے متعلق کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اس کا جواب اگلی آیت یا اگلی آیات میں دے دیتا ہے۔اور بسا اوقات اس اعتراض کو بیان بھی نہیں کرتا۔صرف جواب ہی دے دیتا ہے۔گویا وہ پڑھنے والے کے ذہن کے افکار میں اور قرآن کریم کے مضامین میں ایک کڑی بنا دیتا ہے۔اور اس طرح پڑھنے والا یوں محسوس کرتا ہے کہ جو سوال اس کے ذہن میں آتا ہے قرآن کریم اس کا جواب ساتھ کے ساتھ دیتا جاتا ہے۔جو لوگ اس کے اس لطیف پیرایہ سے ناواقف ہیں وہ ایسے مقامات پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کی آیات میں ترتیب نہیں۔حالانکہ اصل نقص ان کے تدبر کا ہوتا ہے۔اس آیت میں بھی ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے جو پہلی آیت سے پیدا ہوتا تھا۔اور وہ یہ کہ مسلمان ترقی کس طرح کریں گے۔ان کی ترقی کے سامان تو کوئی نظر نہیں آتے۔تفسیر۔تدریج تکمیل چونکہ پہلی آیت میں مسلمانوں کے لئے ایک پائدار کامیابی کی بشارت دی تھی اور ایسے وقت میں دی تھی جبکہ مسلمانوں کے لئے ان کے گھروں میں بھی امن نہ تھا۔اور سب ملک دشمن تھا اس لئے قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ایسے حالات میںمسلمان کس طرح ترقی کرسکتے ہیں۔پس یہ وعدے صرف دھوکا دینے کے لئے ہیں۔چنانچہ یہ سوال کفار کے دلوں میں پیدا ہوا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر کہا۔یعنی فریب کی باتیں کرنے والا۔پس اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا کہ ضروری نہیں کہ ہر امر کی ابتداء ہی میں اس کی ترقی کے سامان اپنی مکمل صورت میں نظر آجائیں۔روحانی عالم بھی جسمانی عالم کی طرح ہوتا ہے۔آخر زمین و آسمان کو بھی تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔اگر اس کی طرف سے آنے والے کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تکمیل کے سامان فوراً پیدا ہوجائیں تو چاہیے تھا کہ زمین و آسمان بھی فوراً پیدا ہوجاتے۔مگر ایسا نہیں ہوا۔ان کی پیدائش چھ دوروں میں ہوئی ہے۔(علم طبقات الار ض سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دور لاکھوں کروڑوں سال کا تھا) پس جس طرح آسمان و زمین کا باریک اور غیرمرئی ذرات سے ایک لمبے عرصہ میں پیدا ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے کے ساتھ ہی اسلام کی تکمیل کے سامانوں کا پیدا نہ ہونا اس امر کی علامت نہیں کہ اس کی تکمیل مشکوک ہے اور اس کی بنیاد خدا تعالیٰ نے نہیں ڈالی۔الٰہی کاموں کی بنیاد ہمیشہ ایسے سامانوں سے رکھی جاتی ہے جو انسانی نظر سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔