تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 322
قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ انہوں نے کہا تو یقیناً یقیناً معلوم کر چکا (ہوا) ہے کہ تیری لڑکیوں کے متعلق ہمیں کوئی بھی حق (حاصل) نہیں ہے۔لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ۰۰۸۰ اور جو (کچھ) ہم چاہتے ہیں اسے تو یقیناًیقیناً جانتا ہے۔تفسیر۔حضرت لوط ؑ نے جو ان لوگوں سے کہا کہ میری بیٹیاں تمہارے قبضہ میں ہیں اگر تم مجھ سے کوئی امر اپنے ملکی مصالح کے خلاف دیکھو تو ان کے ذریعہ سے مجھے تکلیف پہنچا سکتے ہو چونکہ یہ ایک رنگ یرغمال کا تھا اور یرغمال کے متعلق یہ دستور تھا کہ اس میں نرینہ اولاد ہی رکھی جاتی تھی ان لوگوں نے جواب دیا کہ لڑکیاں رکھنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔اور تجھے معلوم ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔یعنی تجھے معلوم ہے کہ ہم بہرحال مہمانوں کی آمد کو روکنا چاہتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ یرغمال رکھ لو اور مہمانوں کے متعلق مجھے کچھ نہ کہو ایک ایسا مطالبہ ہے کہ جسے ہم تسلیم نہیں کرسکتے۔مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ سے یرغمال کے خیال کی تائید جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت لوط ؑ نے لڑکیوں کو بدکاری یا نکاح کے لئے پیش کیا تھا اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ ضرور ایسا ہی ہوگا۔تبھی تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ لڑکیوں کے متعلق ہمارا کوئی حق نہیں۔حالانکہ یہ آیت تو ان کے خلاف ہے۔کیونکہ جو قوم بدکاری میں اس قدر بڑھ چکی ہو وہ شہوانی امور کے متعلق حق و ناحق کا سوال کب اٹھا سکتی ہے؟ ان کا یہ کہنا کہ ہمارا کوئی حق نہیں تو بتاتا ہے کہ یہاں یرغمال کا ہی سوال تھا اور چونکہ ان کے ہاں رواج تھا کہ یرغمال کے طور پر نرینہ اولاد ہی رکھی جاتی تھی وہ اسے خلاف دستور قرار دیتے ہیں اور بے فائدہ سمجھتے ہیں۔قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِيْدٍ۰۰۸۱ اس نے کہا کاش مجھے تمہارے مقابلہ میں (کسی قسم کی) قوۃ( حاصل) ہو تی (تو میں تم کو تمہاری بدی سے روکتا) یا (پھر یہ علاج ہے کہ) میں ایک قوی ذریعہ حفاظت (یعنی خدا) کی پناہ لے لوں۔حلّ لُغَات۔رُکْنٌ الرُّکْنُ اَلْـجَانِبُ الْاَقْوٰی نہایت مضبوط یا سب سے مضبوط جانب۔اَلْاَمْرُ الْعَظِیْمُ