تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 321

دے کر مجھ سے بدلہ لے سکتے ہو۔اس طرح تمہاری بدنامی بھی نہ ہوگی۔حضرت لوط ؑنے بدکاری کے لئے اپنی لڑکیوں کا نہیں ذکرکیا تھا بعض لوگوں نے تورات کی اتباع میں اس آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی باکرہ لڑکیوں کو (یا تو ان کی دو لڑکیاں کنواری ہی تھیں اور یا بیاہی ہوئی ابھی رخصت نہ ہوئی تھیں) ان لوگوں پر پیش کیا کہ ان سے بدکاری کرلو۔لیکن مہمانوں سے کچھ نہ کہو (تفسیر فتح البیان زیر آیت ھذا) مگر یہ معنی نبی کی شان کے خلاف ہیں۔وہ سب لوگوں سے زیادہ باغیرت ہوتے ہیں۔ایسا کام جسے ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ بھی نہیں کرسکتے وہ کیوں کرنے لگے؟ ایسے مقابلہ کے وقت میں تو بدکار لوگ بھی کبھی یہ تجویز پیش نہیں کرسکتے۔پس یہ غلطی ان سے تورات کی نقل کی وجہ سے ہوئی ہے۔قرآن کریم میں بدکاری کا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔حضرت لوط ؑ نے لڑکیوں کا ذکر دشمنی کے شبہ کے ازالہ کے لئے کیا تھا انہوں نے صرف شہر والوں کے خوف کو اس طرح دور کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ جب میرے عیال تمہارے قبضہ میں ہیں تو تمہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیےکہ میں تمہارا دشمن ہوں۔اور دوسرے لوگوں سے مل کر تمہارے شہر کو کوئی نقصان پہنچاؤں گا۔اگر یہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو اس پر عمل کرنا تمہاری عزت کے قیام کے لئے اچھا ہوگا اور مہمانوں کو ذلیل کرنے کے عیب سے محفوظ ہوجاؤگے۔شادی کرنے کے لئے لڑکیاں پیش کرنے کا خیال بھی صحیح نہیں بعض مفسرین قرآن یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے نکاح کے لئے لڑکیاں پیش کی تھیں(تفسیر فتح البیان زیر آیت ھٰذا)۔یہ خیال بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔کیونکہ بائیبل کے رو سے تو ان کی لڑکیاں بیاہی ہوئی تھیں۔اگر باکرہ لڑکیاں نکاح شدہ لڑکیوں کے علاوہ بھی سمجھی جائیں تب بھی یہ عقل کے خلاف ہے کہ شہر کے لوگ تو ایک خاص قسم کے فحش کے لئے آئے ہوں اور حضرت لوط ؑ یہ کہیں کہ تم میں سے دو آدمی میری لڑکیوں سے بیاہ کرلیں۔بیٹیوں سے مراد قوم لوط کی اپنی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت لوط ؑ بیٹیاں ان لوگوں کی بیویوں کو کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری بیٹیاں (یعنی تمہاری بیویاں) جو تمہارے گھروں میں موجود ہیں ان سے تعلق تمہارے لئے بہت پاکیزہ امر ہے۔اسے چھوڑ کر تم کن بدکاریوں میں مبتلا ہورہے ہو۔گویا حضرت لوط ؑ چونکہ معمر ہوچکے تھے عام محاورہ کے مطابق ان لوگوں کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔