تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 320
شہروں کی حکومتیں ہوا کرتی تھیں۔اور یہ علاقہ جس میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوط ؑ رہتے تھے یہ تو اس وقت باقاعدہ حکومتوں سے بالکل خالی تھا۔ہر شہر یا قصبہ یا چند قصبات کی اپنی الگ حکومت ہوتی تھی جوجمہوریت کا رنگ رکھتی تھی کبھی کوئی ملک حاکم ہوتا تھا کبھی صرف شہر کے رؤسا مل کر امور سیاسیہ کو طے کرلیا کرتے تھے۔سڈوم اور عمورا دونوں بستیاں جن سے حضرت لوط ؑ کا تعلق تھا ایسی ہی شہری حکومتوں میں سے تھیں اور شہر کا ملک ہی ان کا بادشاہ ہوتا تھا۔(دیکھو پیدائش باب۱۴) اس بستی کے مالک باشندوں کی ارد گرد کی بستیوں سے پرخاش تھی طالمود جو یہود کی روایات اور تاریخ کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ ان بستیوں کے لوگ مسافروں کو لوٹ لینے کے عادی تھے۔(دیکھو جیوش انسائیکلوپیڈیازیر لفظ سڈوم) اور جو قوم ہمسایوں کو اس طرح دکھ دے گی وہ ان سے خائف بھی رہے گی۔کہ وہ بھی کسی وقت اسے نقصان نہ پہنچائیں۔اور سڈوم والوں سے تو ہمسایوں کی عملاً بھی لڑائی رہتی تھی۔(دیکھو پیدائش باب ۱۴ آیت۲) اس سبب سے یہ لوگ غیرمعروف آدمیوں کو شہر میں آنے نہیں دیتے تھے۔تاکہ ایسا نہ ہو کہ رات کو شہر کے دروازے کھول دیں اور دشمن سوتے میں آکر حملہ کر دیں۔حضرت لوط ؑ چونکہ سنت انبیاء کے مطابق مہمان نواز تھے وہ مسافروں کو لے آئے کہ باہر رہیں گے تو لوٹے جائیں گے۔یہ لوگ ان کو منع کرتے۔جیسا کہ سورہ حجر کی مذکورہ بالا آیت سے ثابت ہے۔حضرت لوط ؑ کی قوم کا ایک ہی وقت میں غصہ بھی اور خوشی بھی اس دفعہ جب پھر حضرت لوط ؑ آنے والے رسولوں کو لے آئے تو یہ لوگ ایک طرف تو غصہ سے بھر گئے کہ ہماری ہدایت کے خلاف یہ اجنبیوں کو لے آئے ہیں اور دوسری طرف خوش بھی ہوئے کہ اب لوط ؑ کو پکڑنے کا بہانہ مل جائے گا۔اور یہ قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔حضرت لوط ؑکے جواب میں بیٹیوں کا ذکر جب یہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے تو چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ لوگ پہلے بھی مجھے مہمان لانے سے روکتے رہے ہیں اس لئے وہ اس پہلے سلوک کی وجہ سے جو وہ لوگ ان سے کیا کرتے تھے ڈرے کہ کہیں مہمانوں کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کریں۔اور ان لوگوں سے کہا کہ میری بیٹیاں یہاں موجود ہیں (ان کی دو بیٹیوں کی اس شہر کے دو آدمیوں سے شادی ہوچکی تھی) وہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہیں۔یعنی مہمانوں کو رسوا کرکے نکالو گے تو اس میں تمہاری بدنامی ہے۔تم کو خوف ہے کہ باہر کے لوگوں سے مل کر میں تم کو نقصان نہ پہنچاؤں تو میری بیٹیاں تمہارے اپنے گھروں میں موجود ہیں۔تم ان کو سزا