تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 319

رَّشِيْدٌ۰۰۷۹ تقویٰ اختیار کرو اور میرے مہمانوں (کی موجودگی) میں مجھے رسوا نہ کرو۔کیا تم میں سے کوئی( بھی) سمجھ دار( آدمی) نہیں ہے۔حلّ لُغَات۔اُھْرِعَ اُھْرِعَ الرَّجُلُ (مَجْہُوْلًا) أُرْعِدَ مِنْ غَضَبٍ اَوْضُعْفٍ اَوْخَوْفٍ اَوْبَرْدٍ۔خوف سردی غضب یا ضعف سے کانپنے لگا۔اُعْـجِلَ عَلَی الْاِسْرَاعِ فَھُوَ مُھْرَعٌ۔اسے تیزی سے دوڑایا گیا۔ایسے شخص کو مُھْرَعٌ کہیں گے وَفِی اللِّسَانِ اَلْھَرَعُ وَالْھُرَاعُ وَالْاِھْرَاعُ شِدَّۃُ السَّوْقِ اور لسان العرب میں ہے کہ اِھْرَاعٌ کے معنی تیز چلانے اور زور سے ہانکنے کے ہوتے ہیں۔قَالَ اَ بُوْعُبَیْدٍ اُھْرِعَ الرَّجُلُ۔اِذَا اَ تَاکَ وَھُوَ یُرْعَدُ مِنَ الْبَرْدِ۔ابوعبید کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص سردی سے کانپتا ہوا آئے تو اس کی نسبت اُھْرِعَ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اَقْبَلَ الشَّیْخُ یُھْرَعُ اَیْ اَقْبَلَ یُسْرِعُ مُضْطَرِبًا۔یعنی بڈھا گرتا پڑتا دوڑتا ہوا آیا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت لوط ؑ کو اپنی قوم کی طرف سے بدکاری کا خطرہ نہیں تھا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے افعال بد کی وجہ سے حضرت لوط ؑ کے دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ وہ کوئی شرارت نہ کریں اس سے کوئی خاص شرارت مراد نہیں چونکہ وہ پہلے بھی شرارتیں کیا کرتے تھے۔اس لئے حضرت لوط ؑ کو خطرہ ہوا۔مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔وہ لوگ ان کو دیکھ کر خوش ہوئے اور ان سے بدی کرنے کو دوڑ آئے۔مگر میرے نزدیک مفسرین کا یہ خیال غلط ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سورہ حجر ع۵ میں فرماتا ہے اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ(الحجر:۷۱)۔یعنی کیا ہم نے تم کو غیر علاقہ کے آدمی لانے سے روکا ہوا نہیں ہے۔اگر وہ کسی بدکاری کا ارادہ رکھتے تھے اور ان لوگوں کے آنے پر خوش تھے تو چاہیےتھا کہ تاکید کرتے کہ روز مسافروں کو پکڑ کر شہر میں لایا کرو۔مگر وہ لوگ تو ناراض ہوکر کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو پہلے سے روکا ہوا نہیں ہے کہ غیر علاقہ کے آدمی کو شہر میں مت لایا کرو؟ اگر کہا جائے کہ دوسری جگہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠۔(الحجر:۶۸) کہ شہر والے خوش ہوکر بھاگے آئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس خوشی سے بھی یہ مراد نہیں کہ ان مہمانوں سے کسی قسم کی بے حیائی کا فعل کریں گے بلکہ خوشی کا سبب یہ تھا کہ آج لوط ؑ کو سزا دینے کا بہانہ مل گیا ہے اور وہ ہمارے قابو چڑھ گیا ہے۔حضرت لوط ؑ کا تعلق شہری حکومت سے تھا اصل بات یہ ہے کہ پرانے زمانہ میں عام طور پر الگ الگ