تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 316

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى پس جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوگئی اور اسے خوشخبری ملی تو( اس وقت) وہ لوط کی قوم کے متعلق ہمارے يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍؕ۰۰۷۵ ساتھ بہت جھگڑتا تھا۔حلّ لُغات۔رَوْعٌ۔اَلرَّوْعُ۔الْفَزَعُ۔گھبراہٹ رَاعَ فَزِعَ۔گھبرایا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم کا یہ خوف قوم لوط کے متعلق تھا یہ خوف حضرت ابراہیمؑ کا اپنے متعلق نہیں تھا کہ اس کو محل اعتراض قرار دیا جائے بلکہ قوم لوط کے متعلق تھا اور یہ تقویٰ کے عین مطابق اور اعلیٰ اخلاق میں سے ہوتا ہے۔پہلے تو حضرت ابراہیمؑ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ حیران رہ گئے کہ میں اب کروں تو کیا کروں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آپ کو ایک بہتر قوم مل جائے گی تو ان کے غم کا بوجھ کم ہوا۔اور محبت الٰہی کا نظارہ دیکھ کر لوط کی قوم کے بارہ میں بھی درخواست کرنی شروع کی۔اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ۰۰۷۶ ابراہیم یقیناً یقیناً بردبار دردمند(دل رکھنے والا اور ہمارے حضور) بار بار جھکنے والا تھا۔حل لغات۔اَوَّاہٌ اَ لْاَوَّاہُ کَثِیْرُ التَّأَوُّہِ اِشْفَاقًا وَفَرَقًا جو خوف اور محبت کی وجہ سے بہت آہیں بھرتا ہو۔(اقرب) مُنِیْبٌ اَنَابَ اِلَیْہِ۔رَجَعَ اِلَیْہِ۔مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ۔بار بار رجوع کیا۔پس منیب کے معنی ہوئے بار بار رجوع کرنے والا۔(اقرب)