تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 315
کے رنگ میں تعجب کرے گی۔تو ایک نبی کی مومنہ بیوی کے متعلق کس طرح خیال ہوسکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھنے کے بعد اس کی قدرت پر انکار کے رنگ میں تعجب کرے؟ پس ان کا تعجب نعمت کی عظمت کے اظہار کے لئے تھا۔حضرت ابراہیم ؑکا اپنا تعجب چنانچہ حضرت ابراہیم کے متعلق بھی ایک جگہ اس قسم کے لفظ آتے ہیں۔اور وہ خود ہی تشریح بھی کردیتے ہیں۔کہ میرا تعجب نعمت کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔نہ کہ اس کے ناممکن ہونے کے خیال سے فرمایااَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ۔قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ۔قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ۔(الحجر :۵۵ تا ۵۷) یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم نے باوجود میرے بوڑھا ہوجانے کے مجھے یہ خوشخبری دی ہے۔تم کیسی عجیب خبر دیتے ہو! خبر دینے والوں نے کہا کہ ہم نے تجھے ایک یقیناً پوری ہوکر رہنے والی خبر دی ہے۔پس تو مایوس نہ ہو۔حضرت ابراہیم نے جواب میں کہا کہ میں مایوس نہیں۔خدا کی رحمت سے تو گمراہ ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایسے ہی لفظ حضرت ابراہیمؑ نے کہے ہیں اور پھر خود تشریح بھی کردی ہے کہ میرا تعجب مایوسانہ تعجب نہیں بلکہ عظمت نعمت کے اظہار کے طور پر ہے۔قَالُوْۤا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ انہوں نے کہا کیا تو اللہ (تعالیٰ) کی بات پر تعجب کرتی ہے۔اے اس گھر والو تم پر( تو) اللہ (تعالیٰ) کی رحمت اور عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۰۰۷۴ اس کی ہر (قسم کی) برکات (نازل ہو رہی) ہیں (پس یہ کوئی اچنبی بات نہیں) وہ یقیناً بہت ہی تعریف والا (اور) بزرگ شان والا ہے۔تفسیر۔شیعہ اہل بیت میں بیویوں کو شامل نہیں کرتے(تفسیر القمّی زیر آیت لیذھب عنکم الرجس اہل البیت۔الاحزاب:۳۴)۔مگر یہاں صرف بیوی کو ہی اہل بیت کہا ہے۔حالانکہ ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد بھی نہ ہوئی تھی۔حق یہی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل بیت کا لفظ آیا ہے وہاں بیوی بھی شامل ہے۔