تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 314

ہوگی اور ان کا ایک بیٹا یعقوب مقرب الٰہی ہوگا۔اور جس کی نسبت پہلے سے یہ بتا دیا گیا ہو کہ وہ زندہ رہے گا بڑا ہوکر شادی کرے گا اور اس کا بیٹا پیدا ہوگا جو مقرب الٰہی ہوگا اس کی نسبت کب یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا ہو۔اور پھر اس حکم سے دھوکا بھی لگ گیا ہو۔اگر حضرت اسحاق ؑ کے متعلق ذبح ہونے کی رؤیا ہوتی تو کیا حضرت ابراہیمؑ دریافت نہ کرتے کہ الٰہی تو نے تو اس کے جوان ہونے اور ایک مقرب بارگاہ بچہ کے باپ ہونے کی خبر دی تھی اب اس کے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔کیا اس حکم کا مطلب کچھ اور تو نہیں۔غرض اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیلؑ ہی تھے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ یہودیوں کی محرف مبدل کتب سے ڈر کر ہم حضرت اسحاق ؑ کو ذبیح قرار دینے کی کوشش کریں۔قَالَتْ يٰوَيْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا١ؕ اِنَّ اس نے کہا ہائے میری رسوائی کیا میں (بچہ) جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی (ہو چکی) ہوں اور یہ میرا خاوند بڑھاپے کی هٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ۰۰۷۳ حالت میں ہے یہ (بات) یقیناً یقیناً ایک اچھنبی بات ہے۔حلّ لُغَات۔وَیْلَتٰی اصل میں وَیْلَتِیْ ہے یعنی اے میری وَیْلَۃِ اور وَیْلَۃ کے معنی ہیں اَلْفَضِیْحَۃُ۔بدنامی اَلْبَلِیَّۃُ۔مصیبت (اقرب) یہ کلمہ اصل میں مصیبت کے لئے استعمال ہوتا تھا۔لیکن آہستہ آہستہ تعجب کے لئے استعمال ہونے لگا۔اَلْعَجُوْزُ۔اَلْمَرْءَ ۃُ الْمُسِنَّۃُ۔بڑھیا عورت لِعَجْزِھَا عَنْ اَکْثَرِ الْاُمُوْرِ۔یعنی بڑھیاعورت کو عَـجُوْز اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اکثر کاموں سے عاجز آجاتی ہے۔وَھُوَ وَصْفٌ خَاصٌّ لَھَا۔اور یہ لفظ بوڑھی عورت کے سواء اور کسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔(اقرب) اَلْبَعْلُ۔رَبُّ الشَّیْءِ چیز کا مالک یَقُوْلُوْنَ مَنْ بَعْلُ ھٰذِہِ النَّاقَۃِ اَیْ رَبُّھَا کہتے ہیں کہ اس اونٹنی کا بَعْل یعنی مالک کون ہے۔اَلزَّوْجُ بعل کے معنی جوڑے کے بھی ہیں۔وَ إلْمَرْأَۃُ بَعْلٌ وَبَعْلَۃٌ عورت کے لئے بھی یہ لفظ جوڑے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور اس وقت اس کے ساتھ تاء تانیث کا لانا اور نہ لانا دونوں باتیں جائز ہوتی ہیں۔جیسے زَوْ جٌ اور زَوْجَۃٌ۔(اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑکی بیوی کا تعجب انکاری نہیں تھا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ الٰہی خبر کا انکار کررہی تھیں۔ایک عام طبقہ کی مومنہ کے متعلق بھی یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر انکار