تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 313
وَ امْرَاَتُهٗ قَآىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ اور اس کی بیوی (بھی پاس ہی) کھڑی تھی اس پر وہ گھبرائی تب ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحٰق کے بعد یعقوب وَّرَآءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ۰۰۷۲ (کی پیدائش) کی بشارت دی۔حلّ لُغات۔ضَحِکَ ضَـحِکَ یَضْحَکُ، ضَحْکًا وَضِحْکًا وضِحِکًا وَضَحِکًا۔ضِدُّ بَکٰی۔رونے کی مخالف حالت کا یعنی ہنسنے کا نام ضـحک ہے۔ضَـحِکَ الرَّجُلُ ضَـحَکًا عَـجِبَ اَوْفَزِعَ۔اس نے تعجب کیا یا گھبرا گیا۔(اقرب) ضَـحِکَ فَزِعَ۔وَبِہٖ فَسَّرَ الْفَرَّاءُ الاٰیۃ۔ضَحِکَ کے معنی گھبرا جانے کے بھی ہوتے ہیں۔اور فرّاء نے اس آیت میں یہی معنی کئے ہیں۔(تاج) وَیُسْتَعْمَلُ فِی السُّرُوْرِ الْمُجَرَّدِ نَحْوُ مُسْفِرَۃٌ ضَاحِکَۃٌ کبھی صرف خوشی کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جیسے کہ قرآن کریم میں ہے مُسْفِرَةٌ۔ضَاحِكَةٌ وَاسْتُعْمِلَ لِلتَّعَجُّبِ الْمُجَرَّدِ تَارَۃً اور کبھی صرف تعجب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔(مفردات) تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑکی بیوی کی گھبراہٹ کا باعث حضرت ابراہیمؑ کی بیوی سن رہی تھیں انہوں نے یہ بات سنی تو گھبرا گئیں۔اور ایک قوم کی تباہی پر دل میں درد پیدا ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کی بیوی کو بشارت دئیے جانے کا باعث اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات بہت پسند آئی اور اسحٰق ؑ کی خبر کے ساتھ جو پہلے ان نیک لوگوں کے ذریعہ سے بھی مل چکی تھی حضرت یعقوبؑ کی پیدائش کی بھی خبر دی۔جس کا یہ مطلب تھا کہ چونکہ بنی نوع انسان پر انہیں رحم آیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں ایک ترقی کرنے والی نسل دے گا۔خدا تعالیٰ کا رحم کس قدر وسیع ہے۔وہ عذاب میں گرفتار ہونے والوں سے سچی ہمدردی کو بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ذبیح کون تھا یہاں سے ایک اور مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ذبیح کون تھا؟ عیسائی کہتے ہیں کہ اسحاق ذبیح تھا۔مسلمان کہتے ہیں کہ اسماعیلؑ ذبیح تھا۔ان کی بحث تو خیر تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔مگر بعض مسلمان بھی غلطی سے حضرت اسحاق کو ذبیح قرار دیتے ہیں۔ان لوگوں کی غلطی اس آیت سے دور ہو جاتی ہے کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش سے بھی پہلے خبر دےدی تھی کہ اسحاق ؑکے ہاں اولاد بھی