تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 308

کے فوراً وہ کام کرلیا۔مَاأَبْطَأَ فِی فِعْلِہٖ۔اَوْ مَاتَأَخَّرَ عَنْ فِعْلِہٖ۔اپنے کام میں دیر نہ لگائی (اقرب) اَلْعِجْلُ وَلَدُالْبَقَرَۃِ۔گائے کا بچہ۔وَقِیْلَ اَوَّلَ سَنَۃٍ اور بعض نے اسے ایک سال کی عمر تک کے لئے مخصوص قرار دیا ہے۔(اقرب) اَلْـحَنِیْذُ اَلْحَنِیْذُ۔اَلْمَشْوِیُّ۔بھنا ہوا۔وَفَسَّـَرہٗ اَ بُوْزَیْدٍ بِالنَّضِیْجِ۔ابوزید نے اس کے معنی پکے ہوئے کے کئے ہیں۔وَآخَرُ بِالّذِیْ یَقْطُرُ مَاءَ ہٗ بَعْدَ الشَّیْءِ اور بعض نے اس گوشت کے معنی کئے ہیں جس میں سے بھوننے پر پانی ٹپک رہا ہو۔وَنَقَلَ الْاَزْھَرِیُّ عَنِ الْفَرَّاءِ۔اَلْحَنِیْذُ۔مَاحَفَرْتَ لَہٗ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ غَمَمْتَہُ۔وَھُوَ مِنْ فِعْلِ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ اِلٰی اَنْ قَالَ وَالشِّوَاءُ الْمَحْنُوْذُ الَّذِیْ قَدْ اُلْقِیَتْ فَوْقَہُ الْحِجَارَۃُ الْمَرْضُوْفَۃُ بِالنَّارِ حَتّٰی یَنْشَوِیَ انْشِوَاءً شَدِیْدً افَیَتَھَرَّی تَـحْتَـھَا۔یعنی ازھری نے فراء سے نقل کیا ہے کہ حَنِیْذٌ اس گوشت کو کہتے ہیں جسے گڑھا کھود کر اس میں رکھ دیا جائےاور اس پر تیز گرم کرکے پتھر رکھ دیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی گرمی سے وہ گوشت پوری طرح پک جائے۔(اقرب) تفسیر۔یہاں حضرت ابراہیمؑ کا ذکر صرف استطرا ًدا ہے میں شروع سورۃ میں بتاچکا ہوں کہ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر اس سورۃ میں ضمناً ہے اور حضرت لوطؑ کا ذکر چھیڑنے کے لئے ہے۔ورنہ اصل مقصود حضرت لوط ؑ کا ہی ذکر ہے۔جن کی قوم تباہ کی گئی تھی۔کیونکہ اس سورۃ میں انہی اقوام کا ذکر ہو رہا ہے۔جو تباہ کر دی گئی تھیں۔حضرت ابراہیم ؑکے ذکر کی وجہ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر لوط ؑ کے ذکر کے ابتداء میں اس لئے کیا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والوں میں سے تھے اور ان کے تابع نبی تھے۔جس طرح حضرت اسحاق اور اسماعیل ان کے تابع تھے۔یا ہارون حضرت موسیٰ کے تابع تھے۔گوامتی نہ تھے۔کیونکہ اس وقت نبوت براہ راست ملا کرتی تھی نہ کہ نبی متبوع کے فیض سے۔اس قسم کی نبوت صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں جاری ہے کہ تابع نبی ایک لحاظ سے نبی ہوتا ہے اور دوسرے لحاظ سے امتی۔اس انذار کے ساتھ بیٹے کی بشارت کو کیوں ملایاگیا؟ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ چونکہ متبوع نبی تھے اور حضرت لوط ؑ نبوت سے پہلے ان پر ایمان لائے تھے اور ان کے ساتھ ہجرت کرکے شام کے ملک میں آئے تھے اس لئے ان کی قوم کی تباہی کی خبر اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت ابراہیم کو دینی مناسب سمجھی۔اور اسی وجہ سے لوط ؑ کا ذکر کرنے سے پہلے اس خبر کا ذکر کر دیا۔جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قوم لوط کی تباہی کے متعلق دی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ کا رحم دیکھو کہ چونکہ یہ خبر حضرت ابراہیم ؑ کو نبی متبوع ہونے کی حیثیت سے دی جارہی تھی اور