تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 309

براہ راست اس خبر سے حضرت ابراہیم ؑکا تعلق نہ تھا اس لئے ان کی تکلیف کو ایک بشارت کے ساتھ ملا دیا۔تاکہ ایک بدقوم کی تباہی کی خبر کے ساتھ ایک نیک نسل کی ابتداء کی خبر کو ملا کر صدمہ کو کم کر دیا جائے۔یہ رسل کون تھے؟ یہ رسل کون تھے۔اس کے متعلق اختلاف ہے۔بعض لوگ انہیں انسان قرار دیتے ہیں۔اور بعض ملائکہ قرار دیتے ہیں۔میرے نزدیک بھی یہ لوگ آدمی ہی تھے گو ان کی نیکی کی وجہ سے بعض نے انہیں ملک کہا ہے۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت آتا ہے اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ (یوسف :۳۲) ان لوگوں کے فرشتہ ہونے کے خلاف یہ آیت ہےقُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل :۹۶) اس آیت سے دو استدلال ہوتے ہیں۔(۱)فرشتے رسول ہوکر نیک لوگوں کے لئے آتے ہیں۔نہ کہ بدکاروں کے لئے۔پس اس طرح انسانی شکل میں ایک بدکار شہر کے سامنے ان کا ظاہر ہونا اس آیت کے خلاف ہے۔(۲) دوسرے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک انسان کو بھی فرشتہ کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس میں بتایا ہے کہ اگر اس دنیا میں ملائکہ بستے لیکن مراد انسانوں سے ہے۔کیونکہ ملائکہ سے مراد ملائکہ ہوتے تو ان کی طرف رسول بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ ملائکہ تو احکام الٰہی کے تابع ہوتے ہی ہیں۔یہ بشارت حضرت ابراہیم ؑکو بلا واسطہ کیوں نہ دی گئی اگر یہ سوال ہو کہ کیوں براہ راست حضرت ابراہیمؑ کو ہی یہ الہام نہ ہوا دوسروں کی معرفت کیوں یہ خبر دی گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ المؤمن یَرٰی وَیُرٰی لَہٗ۔(سنن ابن ماجہ ابواب تعبیر الرؤیا باب الرؤیا الصالحة ) کبھی مومن کو براہ راست خبر دی جاتی ہے کبھی دوسرے کی معرفت۔چونکہ ان لوگوں کو کسی خاص غرض کے ماتحت حضرت لوط کے پاس جانے کا حکم ملا تھا اور یہ خبر انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کو بھی پہنچانی تھی اس لئے حضرت ابراہیمؑ کے رنج کو دور کرنے کے لئے یہ بشارت بھی انہی کی معرفت بھیجی گئی۔کیوں دوسرے لوگوں کے ذریعے سے حضرت لوط کو یہ خبر دی گئی وہ خاص غرض کیا تھی جس کے سبب سے ان لوگوں کو خبر دے کر حضرت لوط ؑ کے پاس بھیجا گیا۔اس کا یقینی پتہ تو کلام الٰہی سے نہیں لگتا۔مگر میرے نزدیک ایک وجہ ظاہر ہے اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط اس علاقہ میں باہر سے آکر بسے تھے اس وجہ سے بالکل ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چند مقامی نیک لوگوں کو الہام کرکے بھیجا تاکہ وہ تباہی سے پہلے حضرت لوط ؑ کو کسی محفوظ اور مناسب جگہ کی طرف لے جائیں اور انہیں تکلیف نہ ہو۔یہ انذار پہلی دفعہ کا نہیں تھا اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا کبھی پہلے ایسا ہوا ہے کہ نبی کو تو انذار نہ ہوا ہو مگر