تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 301

معلوم کیا کہ ان کا دوسرے لوگوں سے ملنا جلنا فساد کا موجب ہوتا ہے اور عوام الناس سے ملنے کا زیادہ موقع چشموں اور جانور چرانے کی وادیوں میں ہی ہوتا ہے اس لئے انہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے فساد دور کرنے کے لئے ایسا انتظام کیا کہ جو عام چراگاہ تھی اس سے اپنے جانوروں کو روک دیا اور کوئی دوسری افتادہ زمین جو ان کی قوم کی ملکیت نہ تھی اس امر کے لئے منتخب کرلی اسی طرح اونٹنی کو پانی پلانے کے لئے بھی انہوں نے عام وقت جو پانی پلانے کا تھا اسے چھوڑ دیا۔اور دوسرا وقت جس وقت لوگ پانی نہیں پلاتے تھے مقرر کرلیا۔اور پھر اعلان کر دیا کہ فساد سے بچنے کے لئے ہم نے ہر ممکن تدبیر اختیار کرلی ہے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر بھی ایسی جگہوں اور وقتوں کو چھوڑ دیا ہے جن میں تم لوگوں سے مل کر فساد کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔لیکن اگر اب بھی آپ لوگوں نے فساد کیا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ لوگ ہماری زندگی کو ہی پسند نہیں کرتے اور اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب آپ پر نازل ہوگا۔وادی فَـجُّ النَّاقَۃ ان معنوں کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ پرانی تاریخوں سے ایک وادی کا پتہ لگتا ہے جس کا نام فَـجُّ النَّاقَۃِ تھا اور حضرت مسیح سے ڈیڑھ سو سال قبل کے ایک جغرافیہ میں بھی اس کا ذکر ہے۔پرانے یونانی مورخ اسے بیڈاناٹا لکھتے تھے۔جو فَـجُّ النَّاقَۃِ کا ہی بگڑا ہوا ہے۔اس قدیم وادی سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صالح ؑ نے اپنی قوم سے الگ ایک وادی اپنی اونٹنی کے چرانے کے لئے مقرر کرلی تھی۔تاکہ ان کا جانور دوسرے جانوروں سے اور چرواہا دوسرے چرواہوں سے نہ ملیں اور آپس میں فساد کی صورت پیدا نہ ہو۔لیکن آپ کے مخالفوں کو اس پر بھی صبر نہ آیا اور انہوں نے وہاں جاکر بھی آپ کی اونٹنی کو مار ڈالا۔اور اللہ تعالیٰ کے اعلان کی بے حرمتی کرکے عذاب میں گرفتار ہوئے۔محض اونٹنی کو مارنا قوم کی تباہی کا موجب کیونکر ہوا؟ یہ خیال نہیں کرنا چاہیےکہ ایک اونٹنی کے مارنے پر قوم کو کیوں تباہ کر دیا۔کیونکہ اونٹنی کے مارنے کے معنے یہ تھے کہ ہم صالح کو کسی جگہ بھی آرام سے نہیں رہنے دیں گے اور اس کے سفر کے ذریعوں کو مسدود کردیں گے اور یہ امر شدید ترین دشمنی پر دلالت کرتا ہے۔اس کی سزا سے ایسی قوم جو پہلے تعلیم الٰہی کا انکار کرکے مجرم ہو چکی ہو نہیں بچ سکتی۔فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ اس پر انہوں نے (تلوار سے) اس کی ٹانگیں کاٹ دیں جس پر اس نے (ان سے) کہا تم تین روز (کی مہلت میں