تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 294
اسْتَعْمَرَكُمْ فِيْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ تمہیں آباد کیا اس لئے تم اس سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف کامل رجوع اختیار کرو میرا رب یقیناً قریب ہے قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ۰۰۶۲ (اور دعا ئیں) قبول کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اِسْتَعْمَرَ اِسْتَعْمَرَہٗ فِی الْمَکَانِ۔جَعَلَہٗ یَعْمُرُہٗ۔اسے مقرر کیا کہ وہ مکان کو آباد کرے (اقرب) اور اقرب میں بحوالہ اساس لکھا ہے اِسْتَعْمَرَاللہُ عِبَادَہٗ فِی الْاَرْضِ طَلَبَ مِنْہُمْ الْعِمَارَۃَ فِیْہَا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے چاہا کہ وہ زمین کو آباد کریں۔تفسیر۔ثمود عرب تھے یہاں صالح کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ ثمود عربی امت تھے کیونکہ صالح عربی زبان کا لفظ ہے۔عاد بھی عرب تھے اور چونکہ قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ قوم ثمود عاد کی قائم مقام تھی جیسا کہ فرمایا وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد ان کا قائم مقام بنایا۔پس معلوم ہوا کہ یہ عاد بھی ایک عربی نژاد امت تھی۔صالح کا نام بطور ترجمہ نہیں ہوسکتا شاید یہ خیال کیا جائے کہ صالح کا لفظ کسی دوسری زبان کے نام سے ترجمہ کرکے اختیار کیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام غیرعربی اسماء بغیر ترجمہ کے ہی قرآن مجید میں مندرج ہیں۔جیسے موسیٰ، ہارون، یونس، زکریا۔پس یقیناً یہ نام انہی کی زبان کا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عاد اور ثمود دونوں عربی قومیں تھیں۔قوم نوح بھی عرب تھی اور چونکہ عاد کو نوح کی قوم کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نوح بھی عرب ہی کے کسی علاقہ میں مبعوث ہوئے تھے اور عربی نسل سے ہی تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ تاریخ سے حضرت نوح کا مقام عراق میں ہی ثابت ہے۔اور عرب قوم ابتداء میں اس علاقہ میں حکومت کرتی رہی ہے۔عربی زبان اُمُّ الاَلْسِنَۃ ہے ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ ابتدائے عالم کی زبان عربی تھی۔کیونکہ جب نسل انسانی کا آغاز عرب سے مانا جائے تو اس ملک کی زبان کو بھی ام الالسنۃماننا پڑے گا۔