تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 292
عذاب غلیظ سے کیا مراد ہے عَذَابٍ غَلِيْظٍ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس عذاب سے باوجود کوشش کے آزاد نہیں ہوسکیں گے۔کیونکہ گاڑھی چیز میں جب کوئی پھنس جائے تو اس سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔نہ وہ ٹھوس ہوتی ہے کہ اس پر سہارا دے کر نکل آئے اور نہ پتلی ہوتی ہے کہ اس میں سے چل کر نکل جائے۔جس طرح دلدل کہ اس میں پھنسا ہوا باہر نہیں نکل سکتا۔وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ اور یہ (مغرور لوگ) عاد( کی قوم کے لوگ) تھے انہوں نے (دیدہ و دانستہ) اپنے رب کے نشانوں کا انکار کردیا اور وَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۰۰۶۰ اس کے رسولوںکی نافرمانی کی اور ہر ایک سر کش (اور) حق کے دشمن (شخص) کے حکم کی پیروی کی۔حلّ لُغَات۔جَـحَدَ۔جَـحَدَیَـجْحَدُ جُحُوْدًا۔حَقَّہٗ وَبِحَقِّہٖ اَنْکَرَہٗ مَعَ عِلْمِہٖ بِہٖ۔اس نے اس کے حق کا باوجود یہ جاننے کے کہ اس کا مجھ پر حق ہے انکار کر دیا۔کَفَرَہٗ وَکَذَّبَہٗ اس کی بات کا انکار کیاا ور اسے جھوٹا قرار دیا۔جَبَّارٌ اَلْجَبَّارُمِنْ صِفَاتِ اللہِ تَعَالٰی۔جَبَّار کا لفظ خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔(یعنی اصلاح کرنے والا) وَکُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ اور ہر سرکشی کرنے والے اور بات نہ ماننے والے کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) اَلْعَنِیْدُ اَلْمُخَالِفُ لِلْحَقِّ الَّذِیْ یَرُدُّہٗ وَھُوَیَعْرِفُہٗ جَمْعُہٗ عُنُدٌ۔حق کا مخالف جو اسے جانتے ہوئے رد کرے۔اس کی جمع عُنُدٌ ہے۔(اقرب) تفسیر۔تِلْکَ کے اشارہ کی وجہ تِلْکَ سے عاد کی بڑائی کی طرف اشارہ ہے کہ عاد ایسی زبردست قوم تھی مگر باوجود اس کے جب انہوں نے شوخی اور شرارت سے کام لیا اور حق کا جان بوجھ کر اور ضد سے انکار کر دیا اور جو ان کی بھلائی کا پیغام لائے تھے ان کی بات تو نہ مانی لیکن جو لوگ دنیا میں زور اور جبر کرنے والے تھے اور بلاوجہ لوگوں سے لڑائی جھگڑا مول لیا کرتے تھے ان کی بات مان لی اور باوجود اس کے حریت کادعویٰ بھی رکھتے تھے