تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 289

نشانات سے سچ اور جھوٹ میں فیصلہ کرکے دکھادے۔اِنِّيْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ میں نے یقینا ً اللہ پر جو میرا (بھی) رب (ہے) اور تمہارا (بھی )رب ہے بھروسہ کیا ہے (روئے زمین پر) کوئی بھی اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۵۷ چلنے والا (جاندار) ایسا نہیں کہ وہ اس کی پیشانی کو پکڑے ہوئے نہ ہو۔میرا رب یقیناً سیدھی راہ پر (کھڑا اور اپنی طرف آنے والوں کی حفاظت کر رہا) ہے۔حلّ لُغَات۔نَاصِیَۃٌ النَّاصِیَۃُ۔قُصَاصُ الشَّعَرِ اَیْ حَیْثُ تَنْتَہِیْ نِبْتَتُہٗ مِنْ مُقَدَّمِہٖ اَوْمُؤَخَّرِہٖ۔یعنی سر کی اگلی یا پچھلی طرف جہاں بال ختم ہوجاتے ہوں وہاں کے بالوں کا گچھا۔یعنی بالوں کا مجموعہ۔وَقِیْلَ النَّاصِیَۃُ مُقَدَّمُ الرَّأْسِ۔بعض کے نزدیک نَاصِیَۃ سر کے اگلے حصہ کو کہتے ہیں وَقَالُوْا اَلطُّرَّۃُ ھِیَ النَّاصِیَۃُ۔اور بعض نے طرّہ ہی کو نَاصِیَۃ قرار دیا ہے۔اس کی جمع نَاصِیَاتٌ اور نَوَاصِیْ ہے۔اَذَلَّ فُلَانٌ نَاصِیَۃَ فُلَانٍ أَیْ عِزّہٗ وَشَرَفَہٗ فلاں شخص نے فلاں کی عزت اور بزرگی کو خاک میں ملا دیا۔نَوَاصِیُ النَّاسِ۔اَشْرَافُھُمْ وَالْمُتَقَدِّمُوْنَ مِنْھُمْ۔نَوَاصِیْ کے معنی قوم کے بزرگوں اور لیڈروں کے بھی ہوتے ہیں۔وَھٰذَا کَمَاوُصِفُوْا بِالذَّوَائِبِ۔یُقَالُ فُلَانٌ ذُ ؤَابَۃُ قَوْمِہٖ وَنَاصِیَۃُ عَشِیْرَتِہٖ۔اور یہ استعمال ایسا ہی ہے جیسے ذَوَائب (مینڈھیوں) کا لفظ بھی سرداران قوم کے لئے آتا ہے۔عرب میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص اپنی قوم کی مینڈھی اور اپنے قبیلے کی چوٹی ہے۔یعنی اپنی قوم کا سردار ہے۔(اقرب) تفسیر۔اخذ ناصیہ کے متعلق عرب کا دستور اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا۔عرب کا یہ قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم کو کوئی فتح ہوتی تھی تو قیدیوں کو بادشاہ کے سامنے لایا جاتا تھا۔اور وہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میں فاتح بادشاہ ہوں اور تم مفتوح ہو ان کے اگلے بالوں کو پکڑ کر جھٹکا دیتا تھا اور یہ بھی عرب کا رواج تھا کہ جس پر رحم کرنا ہوتا تھا اس کے اگلے بال مونڈ کر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا۔تو اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا کے دونو معنے ہوسکتے ہیں۔(۱) کہ کوئی دابۃ نہیں جس کی ناصیۃ خدا تعالیٰ نے نہ پکڑی ہوئی ہو یعنی جو خدا تعالیٰ کے ماتحت نہ ہو اور (۲) یہ کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک کے بال مونڈے ہوئے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے احسان کرکے تم کو چھوڑا ہوا ہے۔ورنہ تم تباہ ہو جاتے۔غرض انسان کو