تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 288
ہوئی ہے۔کہ تو بھی کوئی ہستی رکھتا ہے کہ صرف تیرے کہنے کی وجہ سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّيْۤ (تیرے متعلق) ہم سوائے اس کے (کچھ) نہیں کہتے کہ ہمارے کسی معبود نے تجھ پر کوئی آفت ڈال دی ہے۔اس اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ۰۰۵۵مِنْ نے کہا میں اللہ (تعالیٰ) کو( اس بات کا) گواہ ٹھیراتا ہوں۔اور تم( بھی) گواہ رہو کہ جس کو تم (اللہ کا) شریک دُوْنِهٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۰۰۵۶ ٹھہراتے ہو اس سے میں بیزار ہوں۔(جو) اس (خدا) کے سوا (ہیں) اس لئے تم سب (اکٹھے ہو کر) میرا مقابلہ کرو اور مجھے مہلت (بھی) نہ دو۔حلّ لُغَات۔اِعْتَرَاہُ۔اِعْتَرَاہُ غَشِیَہٗ طَالِبًا مَعْرُوْفَہٗ اس کے ساتھ چمٹا رہا کہ اس کے احسان کو حاصل کرے۔اِعْتَرٰی فُلَانًا اَمْرٌ اَصَابَہٗ۔وہ بات اسے لگ گئی چمٹ گئی۔(اقرب) تفسیر۔ہود کے منکرین کا اعتراض مطلب یہ ہے کہ چونکہ تو ہمارے معبودوں کو نہیں مانتا تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تیرا دماغ خراب کر دیا ہے۔اور تیری عقل ماردی ہے۔ہود کا جواب اس اعتراض کا حضرت ہود نے کیا لطیف جواب دیا ہے کہ اگر تمہارا خیال ہے کہ میری کسی غلطی کی وجہ سے کسی بت نے میرا دماغ بگاڑ دیا ہے تو اب میں تم کو بتاتا ہوں کہ میں ان سارے بتوں کے خلاف ہوں اور ان سے کلی طور پر بیزار ہوں۔یعنی اگر تمہارے خیال میں تمہارے بعض بتوں نے کسی بات سے ناراض ہوکر مجھ پر وبال نازل کیا ہے تو لو اب میں یہ کہتا ہوں کہ میں ان سب کے خلاف ہوں۔اور ان کے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے ان سب باتوں سے بیزار ہوں۔پس اگر ان میں کچھ طاقت ہے تو میری ایسی شدید بیزاری کے بعد وہ جو کچھ میرے خلاف کرسکتے ہیںکرلیں۔خدا تعالیٰ کی شہادت سے مراد اس کے نشانات کی شہادت ہے اِنِّيْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ میں یہ فرمایا کہ تم نے عقلی دلائل سے تو فائدہ نہیں اٹھایا اب میں خدا تعالیٰ کی عملی شہادت کو پیش کرتا ہوں۔اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے