تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 287
ایمان لانے سے قوموں کی ظاہری حالت بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔اور اگر کوئی قوم اپنے تنزل کے وقت اس وقت کے رسول پر ایمان لے آئے تو اسے زندگی کا ایک اور دور عطا ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔ان الفاظ میں کہ تمہاری قوت پر اور قوت کا اضافہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوجائے گا۔قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْۤ اٰلِهَتِنَا انہوں نے کہااے ہود تو ہمارے پاس (اپنے دعویٰ کا) کوئی روشن ثبوت نہیں لایا اور ہم (محض) تیرے کہہ دینے عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۵۴ سے اپنےمعبودوں کو چھوڑ دینے والے نہیں ہیں اور نہ( ہی) ہم تیرا کہا ماننے والے ہیں۔حلّ لُغَات۔عَنْ حَرْفٌ جَرٍّ۔وَلَہٗ تِسْعَۃُ مَعَانٍ۔عَنْ حرفِ جر ہے اور اس کے نو معنی ہوتے ہیں۔الرَّابِعُ التَّعْلِیْلُ۔چوتھے معنی اس کے اظہار علت و باعث کے ہیں۔جیسے عَنْ مَّوْعِدَۃٍ کے معنی وعدہ کی وجہ سے کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔عاد کا ہود کی بات کے برے معنی لینا شریر آدمی اچھی بات کے بھی برے ہی معنی لیتا ہے۔ایسے اخلاص کی نصیحت کا مطلب ان لوگوں نے یہی لیا کہ یہ شخص ہم پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔اور یہی جواب دیا کہ تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔اور تیرے فرمانبردار نہیں ہوسکتے۔شرک جیسی بے ثبوت بات کے ماننے والے ایک روشن بات کا ثبوت مانگتے ہیں پھر تعجب اس دلیری پر ہے کہ شرک جیسی بے دلیل بات کے پیچھے پڑتے ہوئے حضرت ہودؑ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تو اپنے دعویٰ کی دلیل دے۔حالانکہ شرک کے مدعی تو وہ خود تھے۔دلیل ان کو دینی چاہیےتھی نہ کہ شر ک کے منکر کا فرض تھا کہ وہ دلیل پیش کرتا۔ان کے اس فقرہ سے تعجب ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ خدا تعالیٰ کے سوا معبود بنالیتے ہیں جوکہ بالکل ہی بے دلیل دعویٰ ہے اور دوسری طرف جب اس کے خلاف دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو اپنے مخالف سے کہہ دیتے ہیں کہ تم تو کوئی دلیل ہی نہیں لاتے۔گویا وہ بڑے ہی دلیل کے پابند ہیں۔کوئی بات انہوں نے کبھی بغیر دلیل کے مانی ہی نہیں۔حضرت ہود کی توہین عَنْ قَوْلِكَ میں کس قدر توہین مقصود ہے الفاظ تھوڑے ہیں مگر تذلیل کوٹ کوٹ کر بھری