تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 285
تک کہ تو اس قوم کو اس ہوا کے اثر کے نیچے اس طرح گرا ہوا دیکھے گا کہ گویا وہ کھجور کے گرے ہوئے درخت ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد کے ملک پر ایک تیز آندھی آئی تھی۔جو سات دن تک متواتر چلتی رہی۔اور ان کے بڑے بڑے شہر اس آندھی کی زد میں آکر زیرخاک ہو گئے۔اور اس طرح اس قوم کا زور ٹوٹ گیا۔اور زوال شروع ہو گیا۔اس آیت سے خیال پڑتا ہے کہ ابھی زیر خاک ان کے آثار باقی ہیں۔تبھی تو فرمایا ہے کہ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى۔اور یہ بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احقاف اس علاقہ کا نام اس تباہی کے بعد پڑا۔کیونکہ آندھی کے سبب سے شہر ریت کے تودوں میں دب گئے اور علاقہ میں ٹیلے ہی ٹیلے نظر آنے لگ گئے۔يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى اے میری قوم میں اس( کا م) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگوں گا۔میرا اجر اس (ہستی )کے سوا جس نے مجھے پیدا کیا ہے الَّذِيْ فَطَرَنِيْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۰۰۵۲ (اور) کسی کے ذمہ نہیں ہے۔(تو) کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لو گے (اور باوجود اس کے ایمان نہیں لاؤ گے) حلّ لُغَات۔فَطَرَ فَطَرَ یَفْطُرُفَطْرًا اَلشَّیْءَ شَقَّہٗ۔اس چیز کو پھاڑا۔اَلْعَجِیْنَ اِخْتَبَزَہٗ مِنْ سَاعَتِہِ وَلَمْ یُخَمِّرْہُ۔جب آٹے کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ گوندھتے ہی روٹی پکالی۔خمیر نہ ہونے دیا۔اَ لْاَمْرَ اِخْتَرَعَہٗ وَابْتَدَعَہٗ وَاَنْشَاَہٗ۔اس کام کو شروع کیا۔یابغیر سابقہ مثال کے کیا۔الصَّائِمُ فَطْرًا وَفِطْرًا وَفُطُوْرًا اَکَلَ وَشَرِبَ وَقِیْلَ اِبْتَدَأَ الْاَکْلَ وَالشُّرْبَ۔روزہ دار نے پیا اور کھایا یا یہ کہ خالی پیٹ کھایا اور پیا۔(اقرب) تفسیر۔انبیاء کا دنیا سے استغناء اور خدا تعالیٰ کے حضور میں نیاز مندی پہلے حصہ آیت میں استغناء ظاہر کیا ہے۔اور نفس کی خواہش سے اپنے آپ کو پاک قرار دیا ہے۔لیکن دوسرے حصہ میں اپنے عجز اور محتاجی کو ظاہر کیا ہے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کا بھوکا ثابت کیا ہے۔اور خدا کے بندوں کا یہی مقام ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ سب دنیا سے مستغنی ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس قدر عجز و انکسار سے گرتے ہیں کہ ان سے زیادہ محتاج ہی کوئی نظر نہیں آتا۔