تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 284
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ(عاد:۱۲۹)۔کہ تم ہر اونچی جگہ پر نشان کھڑا کرتے ہو۔یعنی MONUMENT بناتے ہو۔اس آیت سے عاد کی ایک اور نشانی کا پتہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ عاد قوم اونچے مقامات پر یادگاریں قائم کرنے کی عادی تھی۔چنانچہ عرب میں بعض نہایت پرانی بڑی بڑی عمارتیں اب بھی ملتی ہیں۔(ارض القرآن جلد ۱ صفحہ ۹۳) عدن سے چند میل کے فاصلے پر میں نے بھی بعض اونچی اونچی عمارتیں دیکھی ہیں۔جو اونچے ٹیلے پر بنی ہوئی ہیں۔ان عمارتوں میں حوض وغیرہ بھی تھے۔یہ دورانِ سفر یورپ کا واقعہ ہے اس وقت میرے ہم راہیوں میں سے بھی بعض میرے ساتھ تھے۔(۴) سورہ احقاف (ع۳) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ(احقاف:۲۶)۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی تاریخ پوشیدہ ہو گئی ہے۔صرف ان کی بڑی بڑی عمارتوں کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔قوم عاد احقاف میں رہتی تھی (۵)قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے مقام کا بھی پتہ دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ (احقاف :۲۲) اور عاد کے بھائی ہود کو یاد کر جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا تھا۔احقاف لغت کے لحاظ سے ریت کے ٹیڑھے ترچھے ٹیلوں کو کہتے ہیں(مفردات امام راغب زیر مادہ حقف)۔اور اصطلاح عرب میں دو علاقوں کو کہتے ہیں۔جو خود تو شاداب ہیں لیکن صحرا کے پاس ہیں۔صحرا سے ریت اڑاڑ کر ان علاقوں میں ٹیلے بنادیتی ہے۔ان دو علاقوں میں سے ایک تو عرب کے جنوب کی جانب ہے یہ علاقہ جو جنوبی احقاف کے نام سے موسوم ہے یمن سے شروع ہوکر صنعاء کے نیچے نیچے عدن سے اوپر مشرق کی طرف کو چلا گیا ہے۔پھر وہاں سے پھیلتا ہوا شمال کی جانب کو نکل گیا ہے۔دوسرا علاقہ شمالی احقاف ہے جو بصریٰ سے نیچے کی طرف عراق کے بیابان کے ساتھ ساتھ چلا جاتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ جس وقت عذاب آیا ہو اس وقت اس علاقہ میں ٹیلے نہ ہوں بلکہ بعد میں اسی عذاب کے وقت صحرا کی ریت کے آنے کے سبب سے وہاں ٹیلے بن گئے ہوں۔اور اس وجہ سے اس قوم کی تاریخ مخفی ہو گئی ہو۔صحرا کی ریت کے ٹیلوں کو اگر صاف کیا جائے تو بالکل ممکن ہے کہ نیچے سے ایسے آثار نکلیں جن سے قوم کی تاریخ پر مزید روشنی پڑسکے۔قوم عاد آندھی سے ہلاک ہوئی (۶)عاد کی ہلاکت کی خبر قرآن کریم یوں دیتا ہے۔اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ۔سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ۔(الحاقۃ :۷،۸) اور عاد کا یہ حال ہوا کہ انہیں ایک تیز حد سے نکل جانے والی ہوا سے جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہلاکت کے لئے چلایا تھا ہلاک کیا گیا۔یہ ہوا سات دن تک بلاوقفہ خدا تعالیٰ کے حکم سے چلتی رہی۔یہاں