تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 283

نہیں لکھا گیا بلکہ یونانی کتب میں ہمیشہ حضرموت ADRAMOTITAI لکھا جاتا ہے۔یعنی ادراموٹی ٹائی اور اوپر کا نام ادرامی ٹائی ہے۔اسی طرح لاطینی میں حضر موت کو CHATRAMOTITAI لکھا جاتا ہے۔یعنی شتراموتی تائی پس اس لفظ سے حضرموت کا شہر مراد لینا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتا۔اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم خیال کریں کہ اس خاص موقع پر جغرافیہ والوں نے پرانے یونانی اور لاطینی لفظ کو ترک کرکے ایک نیا لفظ ایجاد کرلیا۔پھر اس سے بھی بڑا ثبوت یہ ہے کہ جس کتاب میں یہ لفظ آیا ہے اس میں ساتھ ہی حضرموت کا بھی حال لکھا ہوا ہے۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کتاب کے مصنف کے نزدیک بھی یہ دونوں نام علیحدہ علیحدہ چیزوں کے تھے۔(دیکھو العرب قبل الاسلام الجزء الاول صفحہ ۶۲ زیر عنوان عاد و ارم ذات العماد) اس قبیلہ کی تاریخ قرآن کریم کی رو سے قرآن کریم سے اس قبیلہ کی تاریخ جو ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے عاد ارم ذات العماد تھے (۱) اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۔اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ۔(الفجر:۷ تا ۹)یعنی عاد جن میں سے اس وقت ہم ارم کا ذکر کرتے ہیں بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور ان کو ایسی طاقت حاصل تھی کہ ان کے بعد عرب میں کسی قوم کو اس قدر طاقت حاصل نہیں ہوئی۔ارم قبیلے کے متعلق تاریخ سے یہ امر یقینی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ ان کی نہایت زبردست حکومت تھی۔جو کہ پانچویں صدی قبل مسیح تک قائم رہی(ارض القرآن جلد ۱ صفحہ ۸۲)۔عبرانی زبان کی بحث کرتے ہوئے محققین السنہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ارمیک بھی ایک زبان تھی جس کے الفاظ عبرانی کے ساتھ بہت ملتے جلتے تھے اور یہ ارم قوم کی زبان تھی اور اس ارم قوم کی زبردست حکومت تھی جو سامی حکومت کے بعد قائم ہوئی۔اپنے زمانہ حکومت میں یہ لوگ سارے عراق فلسطین شام اور کالدی علاقے پر حاکم ہو گئے تھے۔بلکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان علاقوں سے باہر بھی نکل گئے تھے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Semetic Languages)(انگریزی میں کالدی کو CHALDIA کہتے ہیں) غرض مذکورہ بالا آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عاد کی وہ قوم جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے ارم نامی تھی۔اور ارم کا پتہ آثارِ قدیمہ سے لگ چکا ہے۔قوم عاد حضرت نوح ؑکے بعد والی قو م ہے (۲)وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اعراف :۷۰) اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ یہ قوم حضرت نوح کی قوم کے معاً بعد گزری ہے۔پس معلوم ہوا کہ تاریخوں میں جو سامی وغیرہ دوسری قوموں کا ذکر ہے جو کہ ارم سے پہلے حاکم تھیں وہ بھی عاد ہی کا حصہ تھیں۔قوم عاد بلند مقامات پر اپنی یادگاریں بنایا کرتی تھی (۳)سورہ شعراء (ع۷) میں فرماتا ہے