تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 282
ہیں کہ جو کتبے عرب سے نکلے ہیں ان سے کسی گذشتہ قوم کا نام عاد نہیں ملتا۔صرف اتنا پتہ لگتا ہے کہ سموری قوم سب سے قدیم ہے۔ان کی حکومت سب سے پہلی تھی۔پھر سامی قوم ہوئی۔جن میں حمورابی سب سے مشہور آدمی گذرا ہے۔جس کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی تھا۔یہ مسیح ؑ سے دوہزار سال قبل اور حضرت موسیٰ سے چھ سو سال قبل تھا۔بائیبل سے اس کی تعلیم اس قدر ملتی ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بائیبل کی تعلیم اس سے چرائی گئی ہے۔(ان مسیحیوں کو غور کرنا چاہیےجو قرآن کریم کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم پہلے صحیفوں سے چرائی گئی ہے)۔ایک قوم کے متعدد نام بھی ہو سکتے ہیں محققین یورپ کا خیال ہے کہ عربوں کے عام قصے سن کر قرآن شریف نے یہ قصہ نقل کردیا ہے میرے نزدیک بنی نوع انسان کی جماعتوں کے نام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک قومی نام ہوتا ہے اور ایک نسلی نام ہوتا ہے۔جیسے کہ آرین ایک اجتماعی اور مشترک نام ہے جس کے ماتحت کئی خاندان ہیں۔اب اگر کوئی کہے کہ کتبوں میں سے کوئی گپتا کا کتبہ نکلتا ہے اور کوئی کسی اور کا لیکن آرین کہیں بھی نہیں نکلتا تو یہ اس کی بیوقوفی ہوگی۔عاد چند قبائل کا اجتماعی مشترک نام ہے غرض میرے نزدیک عاد ایک مجموعۂ قبائل کا نام ہے اور اس کے ماتحت قبائل میں سے مختلف زمانوں میں بعض قبائل غلبہ اور حکومت حاصل کرتے رہے ہیں۔جو اپنے اپنے ناموں کے کتبے نصب کرتے رہے ہیں۔مگر وہ سب عاد ہی تھے۔قرآن کریم سے اس قدر پتہ لگتا ہے کہ ثمود سے پہلے عاد تھے۔پس گو مجموعی نام کا پتہ نہیں ملتا لیکن ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ جو قومیں ثمود سے پہلے آباد تھیں ان کامجموعی نام عاد تھا اور اس بات کا ثبوت کہ عاد کا لفظ موجود تھا جغرافیوں سے ملتا ہے۔یونان میں جو جغرافیے لکھے گئے ہیں ان میں ایک قبیلے کا نام عاد پایا جاتا ہے۔ان میں لکھا ہے کہ یمن میں مسیح کے زمانے سے پہلے ایک قبیلہ حاکم تھا۔جس کا نام ADRAMITAI تھا(ارض القرآن جلد ۱ صفحہ ۱۸۳)۔یہ وہی ہے جو قرآن کریم میں عاد ارم کے نام سے موسوم ہے۔چنانچہ سورۂ فجر میں فرمایا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۔اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (الفجر :۷ تا ۹)۔چونکہ یونانی نام کا پچھلا حصہ صرف اسم پر دلالت کرتا ہے اصل نام ادرم ہے اور چونکہ یونانی زبان میں عین نہیں ہے عین کو بھی الف لکھا جاتا ہے۔اس لئے ادرم اصل میں عدرم ہے جو عادارم سے بگڑا ہوا ہے۔اور میٹائی سے مراد حضر موت نہیں ہوسکتا بعض یورپین مصنفوں کا خیال ہے کہ اس لفظ سے مراد حضرموت ہے۔لیکن یہ خیال ان کا درست نہیں کیونکہ اول تو حضرموت ایک شہر کا نام ہے۔اور یہ نام ایک قبیلہ کا بتایا گیا ہے۔دوسرے حضرموت کا شہر یونانی اور لاطینی دونوں کتب میں مذکور ہے اور ان میں کسی جگہ بھی اس کا نام ان حروف میں