تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 21

فلاں شخص ظاہر و باطن طور پر اچھی جگہ میں ہے۔یا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ (یونس :۳) انہیں ظاہر و باطن طور پر اچھا درجہ حاصل ہے۔یاوَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ۔(الشعراء:۸۵ ) مجھے ظاہر و باطن طور پر اچھی تعریف حاصل ہو۔یعنی میرا ذکر خیر کے ساتھ صرف لوگوں کی زبان پر ہی نہ ہو بلکہ واقع میں بھی میرے نیک کام دنیا میں قائم رہیں۔اور میری تعریف جھوٹی نہ ہو یعنی لوگ غلو کرکے مجھ سے شرک نہ کرنے لگ جائیں۔یا فرمایا ہے کہ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ (بنی اسرائیل : ۸۱) مجھے اس طرح کا داخلہ عطا ہو جو ظاہر و باطن میں اچھا ہو اور میں اس طرح اپنے شہر سے نکلوں کہ جو ظاہر و باطن میں اچھا ہو۔یعنی اس میں بزدلی اور کمزوری ایمان کا کوئی شائبہ نہ ہو۔اورا س کے نتائج نہایت اعلیٰ ہوں۔سٰحِرٌ سٰـحِرٌاسم فاعل ہے۔اور سَحَرَ سے نکلا ہے۔اس کے مصدر سِحْرٌ کے معنی ہیں۔کُلُّ مَا لَطُفَ مأخَذُہٗ وَدَقَّ۔ہر وہ چیز جس کا ماخذ یا جڑ نہایت باریک اور پوشیدہ ہو۔اَلْفَسَادُ فساد۔اِخْرَاجُ الْبَاطِلِ فِی صُوْرَۃِ الْحَقِّ۔جھوٹ کو سچ کی شکل میں پیش کرنا وَاِطْلَاقُہٗ عَلٰی مَا یَفْعَلُہٗ مِنَ الْحِیَلِ حَقِیْقَۃً لُغْوِیَّۃً وَمِنْہُ اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا اور اس لفظ کا استعمال حیلوں اور فریبوں پر لغت کے اصلی معنوں کے مطابق ہے۔اور اسی کے مطابق کہتے ہیں کہ بعض کلام بھی سحر ہوتا ہے۔(اقرب) سبب نزول مفسرین نے لکھا ہے اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفار نے طنزاً کہا کہ لَمْ یَجِدِاللہَ رَسُوْلًا اِلَّا یَتِیْمُ اَبِیْ طَالِبٍ (الکشاف للزمخشری تفسیر سورۃ یونس :۲) کہ خدا تعالیٰ کو ابوطالب کے یتیم کے سوا اور کوئی رسول نہ ملا؟ کہتے ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی اور بتایا کہ یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں۔کفار کا ایک طنز نزول کے اسباب مقرر کرنا تو خیر ایک ذوقی امر ہے۔قرآن کریم کی آیات تو بہرحال اترنی ہی تھیں۔مگر اس تاریخی واقعہ سے یہ بات ضرور معلوم ہوجاتی ہے کہ کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔اور آپ کی تحقیر کرنے کے لئے کیسے کیسے مضمون ایجاد کرتے تھے۔ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔اور دادا کی وفات کے بعد آپ ان کی کفالت میں آگئے تھے۔ان کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منسوب کرنا اور آپ کے والد کی طرف منسوب نہ کرنا اس کے صرف یہ معنی تھے کہ آپؐ پر طعن کریں۔کہ ایسا غریب آدمی جس کو ایک اور شخص نے پالا تھا۔بھلا خدا کا رسول ہوسکتا ہے۔نادانوں نے یہ تو نہ سوچا کہ حضرت ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے کوئی غیر نہ تھے۔باپ کی عدم موجودگی میں چچا کے گھر پلنے کا بچہ کو اخلاقاً حق ہوتا ہے۔کیونکہ اہلی زندگی کی بنیاد ہی اس قدیم عہد پر ہے کہ ایک دوسرے کا مصیبت کے وقت میں نائب بنے گا۔