تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 273

کوئی وعدہ نہ تھا بلکہ ایک حکم تھا لیکن جیسا کہ اوپر ثابت کیا جاچکا ہے حضرت نوح ؑ سے اہل کے متعلق ایک وعدہ تھا لیکن اس کے صحیح معنی وقت سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نہیں سمجھے اور انہیں اجتہادی غلطی لگ گئی۔وقت پر اللہ تعالیٰ نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ (نوح نے) کہا ( اے) میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ چا ہتا ہوں کہ میں تجھ سے (آئندہ) کوئی ایسی عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَ تَرْحَمْنِيْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۴۸ چیز مانگو ں جس (کی بھلائی یا برائی) کا مجھے کچھ علم نہ ہو اور اگر تو( میری یہ غلطی) مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ ں گا۔تفسیر۔نوح ؑ کا نہ صرف اپنی غلطی سے رجوع بلکہ آئندہ کے لئے خدا کی پناہ چاہنا انبیاء کیسے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو سن کر انہوں نے اپنے قول سے خالی رجوع ہی نہیں کیا۔بلکہ یہ بھی دعا کی ہے کہ گو میں آئندہ ایسی غلطی کے ارتکاب سے بچنے کی کوشش کروں گا لیکن تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔اس لئے تو بھی میری مدد کر۔کہ میں آئندہ ایسا کوئی فعل نہ کروں۔کیسے نادان لوگ ہیں وہ جو بہت ادنیٰ مقام کے ہوکر بھی بڑے بڑے دعوے کردیتے ہیں اور انبیاء کے طریق عمل سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔نبیوں کی استغفار کی حقیقت اس آیت سے نبیوں کے استغفار کی بھی حقیقت کھل جاتی ہے اس جگہ حضرت نوح ؑ کا استغفار بیان ہوا ہے لیکن جیسا کہ اوپر کی آیات سے ظاہر ہوا ہے ان سے صرف اجتہادی غلطی ہوئی تھی جو شریعت کا گناہ نہیں بلکہ بشری کمزوری ہے باوجود اس کے وہ استغفار کرتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ استغفار سے گناہ کا ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ بشری کمزوریوں کے نتائج سے بچنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔