تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 268

بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۵ (جاکر)ٹھہرگئی اور کہہ دیا گیا( کہ) ان ظالم لوگوں کے لئے ہلاکت ہے۔حلّ لُغَات۔بَلِعَہٗ یَبْلَعُ وَابْتَلَعَہٗ اَ نْزَلَہٗ مِنْ حُلْقُوْمِہٖ اِلٰی جَوْفِہٖ وَلَمْ یَمْضَغْہُ بَلَعَ اور اِبْتَلَعَ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ بغیر چبانے کے کسی چیز کو گلے سے پیٹ میں اتار دیا۔(اقرب) اَقْلَع عَنِ الْاَمْرِ۔کَفَّ۔رک گیا۔(اقرب) غَاضَ الْمَآءُ۔نَقَصَ اَوْغَارَفَذَھَبَ فِی الْاَرْضِ وَغَاضَ الْمَآءُ نَقَصَہٗ۔یعنی غاض لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔اور اس کے معنی زمین میں جذب ہوجانے کے بھی ہوتے ہیں اور کم کردینے کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) اِسْتَوٰی اِسْتَوٰی عَلٰی ظَھْرِ دَآ بَّۃٍ اِسْتَقَرَّ۔سواری پر ٹک گیا۔(اقرب) بَعُدَ۔بَعُدَ یَبْعُدُ بُعْدًا ضِدّ قَرُبَ۔یعنی یہ قریب ہونے کے مخالف معنی دیتا ہے وَفُلَانٌ اَیْ مَاتَ۔اور جب یہ انسان کے لئے آئے تو کبھی اس کے معنی فوت ہوجانے کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَهْلِيْ وَ اِنَّ اور نوح نے (اس وقت) اپنے رب کو پکارا اور کہا (اے) میرے رب ! میرا بیٹا یقیناً میرے اہل میں سے ہے اور وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِيْنَ۰۰۴۶ تیرا وعدہ (بھی) یقیناً نہایت سچاہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوںسے بڑھ کر( بہتر اور درست) فیصلہ کرنے والا ہے۔تفسیر۔انبیاء کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے کیسا مؤدب ہوتا ہے۔کلام الٰہی سے حضرت نوح علیہ السلام کو اجتہادی غلطی لگی۔اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ میرے تمام اہل نجات پائیں گے۔لیکن جب بیٹا غرق ہونے لگا تو کس لطیف پیرایہ سے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کی کہ خدایا یہ میرے اہل میں سے ہے یعنی میں اس وعدہ کا واسطہ دے کر اس کی نجات کا خواہاں ہوں۔مگر چونکہ ظاہری سامان اس کی نجات کے خلاف تھے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ڈوب بھی جائے تو میں یہ خیال نہیں کروں گا کہ تیرا وعدہ جھوٹا تھا تیرا وعدہ بہرحال سچا ہے۔اور تیرا فیصلہ بالکل درست ہے۔ایسے صدمہ کے وقت میں اس ادب اور اس ایمان کا ظہور صرف اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں سے ہی ممکن ہے۔