تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 267

بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ۰۰۴۴ پر وہ(آپ) رحم کردے اور( اسی اثناء میں) پانی کی لہر ان (دونوں) کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ غرق کئے جانے والوں میں (شامل) ہو گیا۔حلّ لُغَات۔اَوٰی۔اَوٰی مَنْزِلَہٗ اَوْاِلٰی مَنْزِلِہٖ نَزَلَ بِہٖ لَیْلًا اَوْنَہَارًا۔(اقرب) دن کو یا رات کو اپنے گھر میں آ ٹھہرا۔یعنی اَوٰی کے معنی ہیں بے اطمینانی کی جگہ سے آرام کی جگہ پر آ گیا۔عَصَمَ۔عَصَمَ یَعْصِمُ عَصْمًا۔اَلشَّیْءَ مَنَعَہٗ اسے رو ک دیا۔اَللہُ فُلَانًا مِنَ الْمَکْرُوْہِ حَفِظَہٗ وَوَقَاہُ خدا تعالیٰ نے فلاں شخص کو تکلیف سے محفوظ رکھا اور بچا لیا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت نوح کا مقام رہائش پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کی رہائش کا مقام پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا کیونکہ تبھی تو ان کا بیٹا کہتا ہے کہ میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا۔کسی کا لفظ علاقہ کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ پہاڑوں سے گھری ہوئی ایک وادی تھی اور ایسی جگہ پر پانی کایکدم اونچا ہوجانا اور غیر معمولی طور پر بلند ہوجانا خلاف عقل نہیں ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نادان انسان آخر تک واقعات سے آنکھیں بند کئے بیٹھا رہتا ہے۔طوفان آرہا ہے لیکن باوجود اس کے حضرت نوح ؑ کا بیٹا اپنے باپ کے پیغام میں شک کررہا ہے۔اِلَّا مَنْ رَّحِمَ کے معنی اِلَّا مَنْ رَّحِمَ استثناء مفرغ ہے۔اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا آج کوئی بچانے والا نہیں۔ہاں مگر وہ شخص محفوظ رہے گا جسے خدا تعالیٰ بچائے۔حَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو بیٹے کے غرق ہونے کا نظارہ دیکھنے سے بچا لیا اور ایک بلند موج کے پردہ میں اسے غرق کیا۔وَ قِيْلَ يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ وَ غِيْضَ اور( زمین سے بھی) کہہ دیا گیا (کہ) اے زمین تو( اب) اپنے پانی کو نگل جا اور(آسمان سے بھی کہ) اے آسمان الْمَآءُ وَ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِيِّ وَ قِيْلَ (اب) تو (برسنے سے) رک جااور پانی کو جذب کر دیا گیا اور (یہ) معاملہ ختم کر دیا گیا اور وہ( کشتی) جو دی پر