تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 266

الْكٰفِرِيْنَ۰۰۴۳ ہو جااور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔حلّ لُغَات۔مَعْزِلٌ۔عَزَلَ سے نکلا ہے کہتے ہیں عَزَلَ الشَّیْءَ عَنْ غَیْرِہِ یَعْزِلُ عَزْلًا فَعَزَلَ اَیْ نَحَّاہُ عَنْہُ جَانِبًا فَتَنَحّٰی اَیْ لَازِمٌ وَمُتَعَدٍّ اسے کسی دوسری چیز سے ایک طرف ہٹا دیا اور وہ ہٹ گیا۔گویا لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔عَزَلَ فُلَانًا عَنْ مَنْصَبِہٖ اَوْنَحْوِہِ رَفَعَہٗ عَنْہُ اس کام سے اسے ہٹا دیا اَلْمَعْزِلُ اَلْجَانِبُ یُقَالُ ھُوَعَنِ الْحَقِّ بِمَعْزِلٍ أَیْ مَجَانِبٌ لَہٗ مَعْزِل کے معنی ایک طرف کے ہوتے ہیں جب کسی کے متعلق کہتے ہیں کہ ھُوَ عَنِ الْحَقِّ بِمَعْزِلٍ تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ شخص حق سے ایک طرف ہو گیا ہے۔(اقرب) تفسیر۔ابن نوح کیا ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا مفسرین نے اس بیٹے کے متعلق اختلاف کیا ہے۔بعض کے نزدیک یہ حقیقی بیٹا نہ تھا بلکہ رشتہ دار تھا۔بعض کے نزدیک حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا بیٹا تھا۔آپ کی نسل سے نہ تھا۔مگر ابن مسعود، ابن عباس، عکرمہ رضی اللہ عنہم، الضحاک، ابن جبیر وغیرہم اور اکثر مفسرین کی رائے میں ان کا بیٹا ہی تھا(البحر المحیط لابن حیّان زیر آیت ھٰذا)۔میرے نزدیک اس بحث میں پڑنا بے فائدہ ہے جب قرآن کریم اسے بیٹا کہتا ہے اور نوح ؑ کی زبان سے بیٹا کہلواتا ہے اور کوئی دوسری آیت اس کے خلاف نہیں تو وہ ضرور ایسا رشتہ دار تھا جس کے لئے بیٹے کا لفظ بولا جاتا ہے۔مسیحی مصنفین کا اس واقعہ کے بیان پر اعتراض مسیحی مفسرین اس بیٹے کے واقعہ پر معترض ہیں کہ یہ بائیبل کے خلاف ہے مگر بائیبل ایسے ناقص حالات میں ہے کہ اس کی بناء پر قرآن کریم پر اعتراض کرنا حیرت انگیز ہے۔(تفسیر ویری زیر آیت ھٰذا) قَالَ سَاٰوِيْۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا اس نے کہا کہ میں ابھی کسی پہاڑ پر جا ٹھہروں گا (اور) پناہ لوں گا( جو) اس پانی سے مجھے بچا لے گا۔اس نے کہا( کہ) عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ اللہ (تعالیٰ) کے (اس عذاب کے )حکم سے آج کوئی بھی (کسی کو) بچانے والا نہیں (ہو سکتا) سوائے اس کے جس