تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 265
دین میں کسی صورت میں واپس نہیں آسکتے۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ چاہے کہ ہم ایسا کریں۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کبھی پسند نہیں کرسکتا کہ اپنے نبی کو شرک کی تعلیم دے یا یہ کہ نبی مرتد ہوجائے۔پس اس جگہ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ سے درحقیقت اللہ تعالیٰ کا استغناء ظاہر کرنا مقصود ہے اور نیز یہ بتانا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔نہ یہ بتانا کہ بالکل ممکن ہے کہ نبی بھی مرتد ہو جائے۔وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ اور (جب طوفان آگیا تو ہمارے حکم سے) اس نے (اپنےساتھیوں کو) کہا (کہ) اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۴۲ اس کا ٹھہرایاجانااللہ (تعالیٰ) کے نام کی( برکت) سے ہی ہو گا۔میرا رب یقیناً یقیناً بہت ہی بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔مَجْرٖی اصل میں مَجْرٰی ہے جس کے معنی چلنے کے ہیں اور یہ لفظ جَرٰی یَجْرِیْ کا مصدر میمی ہے اور اسم ظرف بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے چلنے کا وقت یا جگہ۔مُرْسٰی۔مُرْسٰی اَرْسٰی میں سے نکلا ہے اَرْسٰی کے معنی ہیں ٹھہرایا۔اور یہ مصدر میمی ہے جس کے معنی ٹھہرانے کے ہیں اس کا مجرد رَسَا ہے۔یہ لفظ کشتی کے لنگر ڈالنے کے متعلق خصوصیت سے استعمال ہوتا ہے۔بعض قرائتوں میں مُـجْرِیْھَا وَمُرْسِیْھْا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو اس کا چلانے والا اور ٹھہرانے والا ہے۔(تفسیر کبیر لامام الرازی زیر آیت ھٰذا) وَ هِيَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اوروہ ایک پہاڑوں کی طرح کی (اونچی) موج میں انہیں لئے جا رہی تھی اور(اسی اثناء میں) نوح نے اپنے بیٹے کو ا۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ در انحالیکہ وہ (اس سے علیحدہ) ایک اور جانب میں تھا۔پکارا( کہ) اے میرے پیارے بیٹے ہمارے ساتھ سوار