تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 259

حَاسَّۃُ الْبَصَرِ۔نظر۔اَلْحَاضِرُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ جو چیز آنکھ کے سامنے ہو۔خِیَارُا الشَّیْءِ۔اچھی چیز۔اَلدِّیْنَارُ۔سونے کا سکہ۔نَفْسُ الشَّیْءِ۔کسی چیز کا وجود۔اَلنَّقْدُ الْحَاضِرُ۔نقدی جو موجود ہو۔اَلسَّیِّدُ قوم کا سردار۔الشَّمْسُ۔سورج۔اَوْشُعَاعُہَا۔دھوپ۔سورج کی روشنی۔سورج کی کرنیں۔اَلْعَتِیْدُ مِنَ الْمَالِ جو مالیت والی چیز موجود ہو۔مال۔مَطَرُ اَ یَّامٍ لَایُقْلِعُ کئی دن تک لمبی چلی جانے والی بارش۔اَلْیَنْبُوْعُ۔چشمہ اور کہتے ہیں کہ اَنْتَ عَلٰی عَیْنِیْ اَیْ فِی الْاِکْرَامِ وَالْحِفْظِ۔یعنی جب کہیں۔اَنْتَ عَلٰی عَیْنِیْ تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تو میری حفاظت میں ہے۔اور میں تیری عزت کرتا ہوں۔(اقرب) فُلَانٌ بِعَیْنِیْ۔اَیْ اَحْفَظُہٗ وَاُرَاعِیْہِ یعنی میں اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا ہوں۔اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا اَیْ بِـحِفْظِیْ یعنی ان دونوں آیتوں میں اَعْیُنِنَا سے مراد حفاظت الٰہی ہے وَمِنْہُ عَیْنُ اللہِ عَلَیْکَ اَیْ کُنْتَ فِی حِفْظِہٖ یعنی تو اس کی حفاظت میں رہے۔(مفردات) تفسیر۔بِاَعْيُنِنَا کے معنی جب حضرت نوح علیہ السلام کو قوم کی تباہی کی خبر دی گئی تو ساتھ ہی یہ حکم ملا کہ ہمارے حکم کے ماتحت کشتی تیار کرو اور اس میں اپنے اتباع سے یا گھر والوں سے مدد لو۔حل لغات میں بتایا جاچکا ہے کہ عین کے معنی گھر کے لوگوں کے بھی ہوتے ہیں اور نبی کے گھر کے لوگوں میں نہ صرف اس کے عزیز شامل ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات اس کے اتباع بھی اس کے گھر کے لوگ ہی کہلاتے ہیں۔کیونکہ اس کے سب رشتے روحانی ہوجاتے ہیں۔جسمانی رشتوں میں سے بھی وہی اس کے رشتہ دار رہتے ہیں جو روحانی طور پر اس سے تعلق رکھتے ہوں۔پس بِاَعْيُنِنَا سے مراد ہمارے گھر والے یا اتباع بھی ہوسکتے ہیں۔اور یہ جو فرمایا کہ ہمارے گھر والے سو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کا بھی کوئی گھر ہوتا ہے بلکہ چونکہ نبی سے تعلق رکھنے والے خدا تعالیٰ کے بھی پیارے ہوجاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف منسوب کرلیا ہے۔جیسے فرماتا ہے فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ(الفجر:۳۰،۳۱)۔پس خدا تعالیٰ کے گھر والوں سے مراد اس کی جنت کے مستحق لوگ ہیں اور ان الفاظ میں اس عذاب کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مزید تسلی دی ہے۔دوسرے معنی اس کے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہماری قسم قسم کی حفاظتوں میں رہ کر تو یہ کام کر۔کیونکہ عین کے معنی جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے حفاظت کے بھی ہوتے ہیں اور عزت کے بھی۔ان معنوں کے رو سے یہ مراد ہوگی کہ کشتی بناتے وقت لوگ تمسخر کریں گے۔ہنسی اڑائیں گے تکلیفیں دیں گے لیکن ہماری حفاظت اور ہماری طرف سے اعزاز تجھے عطا ہوگا پس تو ان کی باتوں کی پرواہ نہکیجیئو۔