تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 258
غرض دونوں صورتیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ٹھیک نہیں بنتیں اور اصل بات یہی ہے کہ آیت مذکورہ کا الہام پہلے کا ہے اور دعا بعد کی ہے اور بطور بددعا نہیں بلکہ الٰہی فیصلہ کی تصدیق کے رنگ میں ہے۔گویا حضرت نوح علیہ السلام یوں کہتے ہیں کہ اے میرے رب تو ان کو جس طرح تو نے فیصلہ کیا ہے تباہ کر دے میں تیری رضا پر راضی ہوں۔اور اگر اس کا نام بددعا بھی رکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت بددعا ہے اور ایسی بددعا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو نبی کی شان کے خلاف نہیں کیونکہ جب علیم و خبیر خدا کسی قوم کی خراب حالت کو ظاہر کردے تو پھر ہدایت سے محروم رکھنے کی دعا صرف واقعات کا اظہار رہ جاتی ہے۔حضرت نوح نے یہ دعا کیوں کی اگر یہ کہا جائے کہ خدا تعالیٰ تو فیصلہ کر ہی چکا تھا پھر حضرت نوح ؑ کو دعا مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض وقت نبی کو عذاب کی خبر تو معلوم ہو جاتی ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کو دیکھ کر اپنی قوم کے لئے سفارش کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ وعید کو ٹلا دے۔حضرت نوح ؑ بھی اسی طرح کرتے رہے۔یہاں تک کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ عذاب میں تاخیر کرنے سے خود دین کو نقصان ہوگا تب انہوں نے دعا کی کہ خدا تعالیٰ اپنے اس فیصلہ کو جو وہ کرچکا ہے جاری کردے۔وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي اور تو ہماری آنکھوں کے (سامنے) اور ہماری وحی (کے حکم) کے مطابق کشتی بنا۔اور جن لوگوں نے ظلم (کا شیوہ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۰۰۳۸ اختیار) کیاہے۔ان کے متعلق مجھ سے (کوئی) بات نہ کرنا۔وہ ضرور( ہی) غرق کئے جائیں گے۔حلّ لُغَات۔فُلْکٌ۔اَلْفُلْکُ۔اَلسَّفِیْنَۃُ۔کشتی یہ لفظ کبھی مذکر استعمال ہوتا ہے کبھی مؤنث (اقرب)۔عَیْنٌ اَعْیُنٌ عَیْنٌ کی جمع ہے اور عین ان لفظوں میں سے ہے جن کے عربی زبان میں بہت کثرت سے معنی پائے جاتے ہیں۔اَلْعَیْنُ الْبَاصِرَۃُ اس کے معنی آنکھ کے ڈھیلے کے بھی ہیں۔وَقَدْ تُطْلَقُ عَلَی الْحَدَقَۃِ اور اس کے معنی آنکھ کی سیاہی کے بھی ہوتے ہیں۔وَالْاِصَابَۃُ بِالْعَیْنِ اور نیز اس کے معنی ہیں نظر لگانا۔وَاَھْلُ الْبَلَدِ ایک شہر کے لوگ وَاَھْلُ الدَّارِ۔ایک گھر کے لوگ۔ایک کنبہ۔وَالْاِصَابَۃُ فِی الْعَیْنِ یُقَالُ بِہٖ عَیْنٌ۔آنکھ کی بیماری کو بھی عین کہتے ہیں۔(اردو میں بھی یہ محاورہ ہے کہ آنکھیں آگئیں)۔اَلدِّیدْبَان۔خبررسان۔اَلْجَمَاعَۃُ۔جماعت، گروہ۔