تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 246
میں بھی کچھ تغیر چاہیےتھا۔مگر یہ تو نظر نہیں آتا۔پس ہم کیونکر مان لیں کہ تمہارے باطنی قویٰ ہم سے جدا ہیں۔یہ انہوں نے اپنی طرف سے ایک بہت بڑا فلسفیانہ نکتہ بیان کیا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس دلیل کی تائید میں ہندوؤں کی طرح بزرگوں کی تصویریں دکھاتے ہوں کہ دیکھو نبی ایسے ہوتے ہیں جن کے دس دس سر اور کئی کئی مونہہ ہوں۔گنیش جی کی ہندوؤں نے عجیب شکل تجویز کی ہوئی ہے۔پہلے زمانہ کے لوگ یہ سمجھ ہی نہ سکتے تھے کہ نبی ظاہری شکل و شباہت میں ہماری طرح کا ایک انسان ہوتا ہے۔غرض نوح علیہ السلام کے دشمن یہ دلیل بیان کرکے کہ ظاہر کا باطن کے ساتھ مطابق ہونا ضروری ہے اور باطن کا ظاہر کے ساتھ مطابق ہونا لازم۔حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف اعتراض کرتے ہیں کہ اگر تو نبی ہوتا تو تیری اور ہماری ظاہری شکل و شباہت میں اختلاف لازم تھا۔اس زمانہ کے دشمنانِ حق اس دلیل کو سن کر سر دھنتے ہوں گے اور اس پر واہ واہ کا شور بلند ہوتا ہوگا۔حالانکہ حقیقت میں یہ بات بالکل فضول اور لچر ہے۔حضرت نوح ؑ کے دشمن اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاْيِ کہہ کر اپنی حجۃ کو اور زیادہ مضبوط کرتے ہیں۔یعنی وہ کہتے ہیں کہ تو خاص قوتوں سے عاری ہے بلکہ صرف ہماری طرح کا ایک بشر ہے۔رہے تیرے مرید سو وہ ہم سے بھی گرے ہوئے اور گئے گزرے ہیں۔اب یہ مجموعہ یا معجون مرکب مل کر دنیا میں کیا بنائے گا۔بَادِيَ الرَّاْيِ کی ترکیب کے لحاظ سے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔اول تو یہ کہ اسے اَرَاذِلُنَا کے متعلق سمجھا جائے۔اس صورت میں اگر بادی کا لفظ بدء یبدء سے سمجھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پہلی نظر میں تو نوح ؑ کے متبع رذیل ہی نظر آتے ہیں۔باطن میں شاید اشراف ہوں تو ہوں۔یہ قاعدہ ہے کہ کبھی اپنی بات پر زور دینے کے لئے شبہ کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔اور مطلب اس کے الٹ ہوتا ہے۔جیسے کوئی شخص کہے کہ شاید ہم کمینے ہی ہوں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم ہرگز ایسے نہیں ہیں۔ایسے ہی وہ لوگ حضرت نوح ؑ کے متبعین کے متعلق طنزاً کہتے ہیں کہ پہلی نظر میں تو یہ لوگ رذیل ہی نظر آتے ہیں غوروخوض سے یہ اشراف ثابت ہوں تو ہوں۔مطلب یہ کہ ان کے رذیل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔اور اگر اس لفظ کو بَدَا یَبْدُو سے سمجھا جائے اور اَرَاذِلُنَا کا متعلق قرار دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ظاہری نظر میں تو یہ لوگ کمینے نظر آتے ہیں کوئی ان کی خاص خوبیاں ہوں تو وہ نوح ؑ کو معلوم ہوں گی ہمیں تو نظر نہیں آتیں۔اس میں بھی طنز ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ بَادِيَ الرَّاْيِ کو اِتَّبَعَکَ کا متعلق قرار دیا جائے۔اس صورت میں اس آیۃ کے یہ