تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 244

ہے جن پر وہ نازل ہوا ہو مگر خطرناک عذابوں کے زمانہ کی یاد بعد میں آنے والوں کے لئے بھی دکھ کا موجب ہوتی رہتی ہے۔پس عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ کہہ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ عذاب ہمیشہ یاد رہنے والا اور لوگوں کو ڈراتے رہنے کا موجب ہوگا اور ان معنوں میں جو خوبی اور جدت ہے وہ عَذَاب اَلِیْمٌ کہنے میں ہرگز نہیں ہوسکتی تھی۔اور حقیقۃً بھی دیکھو تو آج تک حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان ایک ہیبت ناک واقعہ اور وہ دن ایک خوفناک دن سمجھا جاتا ہے۔اس دن کا ذکر کرنے سے ہی لوگ ڈر جاتے ہیں اور دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا اس پر ان بڑے لوگوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے (اس کا) انکار کیا تھا (اسے) کہا (کہ) ہم تجھے اپنے بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ جیسے ایک آدمی کے سوا (کچھ) نہیں سمجھتے اور نہ ہم( یہ) دیکھتے ہیں کہ سوائے ان لوگوں کے جو سرسری نظر میں ہم اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاْيِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ میںسے حقیر ترین (نظر آتے) ہیں کسی نے تیری پیروی (اختیار) کی ہو اور ہم اپنے پر تمہاری (کسی قسم کی)کوئی فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ۰۰۲۸ فضیلت نہیں دیکھتے۔بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔حلّ لُغَات۔بَشَرٌ۔بَشَرًاعُبِّرَعَنِ الْاِنْسَانِ بِالْبَشَـرِاِعْتِبَارًا بِظُھُوْرِ جِلْدِہٖ مِنَ الشَّعْرِ بِخِلَافِ الْحَیْوَانَاتِ الَّتِیْ عَلَیْہَا الصُّوْفُ اَوِالشَّعْرُ اَوِالْوَبَرُ وَاسْتَوٰی فِی لَفْظِ الْبَشَرِالْوَاحِدُ وَالْجَمْعُ وَثُنِّیَ فَقَالَ أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ وَخُصَّ فِی الْقُرْاٰنِ کُلُّ مَوْضِعٍ اعْتُبِرَ مِنَ الْاِنْسَانِ جُثَّتُہٗ وَظَاھِرُہٗ بِلَفْظِ البَشَرِ انسان کو بشر اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے جسم پر بال نہیں ہوتے۔برخلاف جانوروں کے کہ ان کے جسموں پر بال یا صوف ہوتی ہے۔اور بشر کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔مگر تثنیہ کا صیغہ الگ بنایا جاتا ہے۔فرماتا ہے أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ اور قرآن کریم میں جہاں کہیں انسان کے جسم اور شکل کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے لئے بشر کا لفظ