تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 243
ہوتا ہے۔نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌصرف نبی ہو سکتا ہے مگر یہ ساری جماعتیں نذیر مبین نہیں ہوا کرتیں۔کیونکہ وہ خود نہیں کہتیں کہ ہم نذیر ہیں۔بلکہ وہ تو اپنے آپ کو قوم کی ترقی کا موجب بتاتی ہیں۔ان کا انذار عملی ہوتا ہے اور پھر اس انذار کی تائید الہام الٰہی سے بھی نہیں ہوتی بلکہ صرف اس قیاس پر مبنی ہوتی ہے کہ چونکہ اس قوم پر ظالم بادشاہ حاکم ہے تو قوم ضرور تباہ ہوگی یا یہ کہ جب ان کے اندر فسادی لوگ پیدا ہوگئے ہیں تو ان کے لئے ہلاکت ضرور مقدر ہے۔پس صرف نبی ہی نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ہوسکتا ہے۔کیونکہ وہ خود موجب تباہی نہیں ہوتا بلکہ تباہی سے ہوشیار کرنے والا ہوتا ہے۔اور اس کے انذار کی بنیاد الہام الٰہی پر اور یقین پرہوتی ہے اور دوسرے انذاروں میں صرف قیاس ہوتا ہے۔اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ (اس پیغام کے ساتھ) کہ تم اللہ (تعالیٰ) کے سوا (کسی ہستی) کی پرستش نہ کرو میں یقیناً تم پر ایک (بڑے) تکلیف يَوْمٍ اَلِيْمٍ۰۰۲۷ (دینے) والے د ن کے عذاب (کے آنے) سے ڈرتا ہوں۔تفسیر۔عَذَابٌ اَلِیْمٌ کی نسبت عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ فرمایا بعض مفسرین اس بحث میں پڑ گئے ہیں کہ اَلِیْم یَوْمٌ کی صفت کیوں آئی ہے۔حالانکہ دکھ تو عذاب کی صفت ہے نہ کہ دن کی(تفسیر طبری زیر آیت ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ )۔میرے نزدیک یہ ان کی غلطی ہے انہوں نے اس امر کو نہیں سمجھا کہ جس کلام میں عمیق اور حقائق سے پر معارف بیان کئے جائیں گے لازماً اس میں نئے نئے محاورات اور عجیب عجیب ترکیبیں بھی استعمال کرنی پڑیں گی۔ورنہ اس کے باریک مطالب کا اظہار نہیں ہوسکے گا۔جو شخص بھی غور سے کام لے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ عَذَابٌ اَلِیْمٌ اور عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ میں بڑا فرق ہے۔الیم کو یوم کی صفت بنانے سے اس عذاب کی شان زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔بہ نسبت عذاب کی صفت بنانے کے۔الیم کے معنی دکھ دینے والے کے ہیں۔بے شک عذاب بھی الیم یعنی دکھ دینے والا ہوتا ہے اور اس سے تکلیف ہوتی ہے۔مگر کئی دن بھی ایسے ہوتے ہیں جن کی یاد ہمیشہ انسانوں کو دکھ دیتی رہتی ہے۔اور ہزاروں سال بعد بھی ان کی تکلیف کا خیال کرکے انسان کانپ اٹھتے ہیں۔پس یہ امر ثابت ہے کہ بعض دن بھی الیم ہوتے ہیں بلکہ عذاب تو صرف ان لوگوں کے لئے الیم ہوتا