تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 242

یعنی(۱) اس کی تعلیم مخفی نہیں ہوتی اور وہ چوری چوری کام نہیں کرتا اور کبھی اپنے پیغام کو اور تعلیم کو لوگوں سے چھپاتا نہیں جبکہ جھوٹے مدعی عام طور پر جتھا بندی کے خیال سے اور لوگوں کے بدک جانے کے ڈر سے اپنی تعلیم کو چھپاتے ہیں۔اس وقت بھی دیکھ لو کہ باب اور بہاء کی تعلیم کو کس طرح مخفی رکھا جاتا ہے۔ان کی کتب کو بھی ظاہر نہیں ہونے دیا جاتا۔اور بہائیوں نے باب کی بعض کتب تو تلاش کرکرکے تلف کردی ہیں(کتاب نقطۃ الکاف صفحہ ۲۴۷)۔(۲) دوسرے سچے نبی کا انذار مبین ہوتا ہے۔یعنی بے معنی انذار نہیں ہوتا بلکہ دلائل پر مبنی ہوتا ہے۔اور اس وجہ سے وہ انذار مایوسی پیدا کرکے قوم کو اور بھی تباہ نہیں کرتا۔جھوٹے نبیوں کے انذار یونہی نقل کے طور پر ہوتے ہیں۔اور بے معنی ہوتے ہیں۔اور لوگوں میں صرف مایوسی پیدا کرنے کا کام دے سکتے ہیں بلکہ تمام نادان لوگ ایسے ہی بے معنی انذار کے عادی ہوتے ہیں۔اور نہیں سمجھتے کہ انذار بھی ہمیشہ اچھا نہیں ہوتا۔کبھی اس کا اثر الٹ پڑتا ہے۔غیر مبین انذار لوگوں کے لئے اُلٹا موجب نقصان ہوتا ہے ایسے ہی انذار کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ قَالَ ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَکَہُمْ(صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ باب النھی عن قول ھلک الناس) جو شخص یہ کہتا پھرے کہ لوگ تباہ ہو گئے۔بے ایمان ہو گئے۔بے دین ہو گئے دراصل وہی ان کی تباہی و بربادی اور بے ایمانی و کمزوری کا موجب ہوتا ہے۔کیونکہ اس سے بے دینی اور بے ایمانی کی اہمیت لوگوں کے دل سے اٹھ جاتی ہے اور مایوسی پیدا ہوجاتی ہے۔جب تک کوئی نیا نظام نہ بدلا جائے لوگوں میں یہ احساس نہیں ہونا چاہیےکہ ان میں سے کوئی بھی اچھا نہیں رہا۔ورنہ وہ بالکل ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ہاں جب ایک نبی آکر نیا نظام قائم کرتا ہے تب انذار عام مضر نہیں ہوتا ایک تو اس لئے کہ واقع میں اس وقت قوم کی حالت خراب ہوچکی ہوتی ہے اور دوسرے اس لئے کہ علاج بھی ساتھ موجود ہوتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ہوں یعنی میرا انذار دلیل پر مبنی ہے۔میں قوم کو خراب اور مایوس کرنے کو نہیں آیا بلکہ حقیقت سے آگاہ کرنے کو آیا ہوں۔مبین کےمفہوم میں عذاب سے بچنے کے طریق کی طرف بھی اشارہ ہے نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ میں صرف خالی انذار ہی نہیں کرتا بلکہ اس عذاب سے بچنے کے ذرائع بھی بتاتا ہوں۔چنانچہ اسی لئے اگلی آیت میں فرمایا ہے کہ اس عذاب سے بچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو عذاب سے بچ جاؤ گے۔تو گویا علاج بتا کر اپنا نذیر مبین ہونا ثابت کیا۔ظالم بادشاہ کا وجود بھی ملک کے لئے نذیر ہوا کرتا ہے۔منافقوں کا گروہ اور استبدادیوں کا گروہ بھی قوم اور ملک کے لئے نذیر ہی