تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 17
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ۰۰۲ یہ کامل( اور) پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔حلّ لُغات۔تِلْکَ تِلْکَ اسم اشارہ ہے۔اور دور کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے آتا ہے۔أل ألحرفِ تعریف ہے اور اس کے مختلف معنوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس لفظ پر یہ آئے اس کے متعلق یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی جنس میں سے کامل وجود ہے۔آیۃ آیَاتٌ آیَۃٌ کی جمع ہے۔جس کے معنی علامت، نشان اور دلیل کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم کے ہر اک ایسے ٹکڑے کو جسے کسی لفظی نشان کے ساتھ دوسرے سے جدا کر دیا گیا ہو آیَۃٌ کہتے ہیں (تاج )۔آیت کی وجہ تسمیہ میرے نزدیک قرآنِ کریم میں وارد فقروں کا نام آیۃ اسی حکمت سے رکھا گیا ہے کہ تا لوگ یہ سمجھ لیں کہ قرآن کریم کے مضامین میں مکمل ترتیب ہے اور ہر فقرہ دوسرے فقرہ کے معانی کے لئے بطور دلیل ہے۔بغیر اس کے مدنظر رکھے مطلب پوری طرح نہیں سمجھ میں آسکتا۔دوسرے اس لئے بھی کہ ہر ہر ٹکڑا خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن نے معجزات کا دعویٰ نہیں کیا۔حالانکہ قرآن کریم تو اپنے ہر فقرہ کا نام آیت رکھ کر اسے معجزات پر مشتمل بلکہ خود معجزہ قرار دیتا ہے۔کِتَابٌ اَلْکِتَابُ مَصْدَرٌ یہ لفظ دراصل کَتَبَ کی مصدر ہے۔کَتَبَ الْکَتِیْبَۃَ جَمَعَھَا۔لشکر کو جمع کر لیا۔کَتَبَ السِّقَاءَ۔خَرَزَہٗ بِسَیْرِیْنِ۔چمڑے کی تنیوں کے ساتھ اسے سی دیا(تاج )۔انہی معنوں کی رو سے کتاب کتاب کہلاتی ہے۔کیونکہ اس میں مضامین کو جمع کر دیا جاتا ہے اور مختلف اوراق کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سی دیا جاتا ہے۔کتاب کے معنی اس خالی کاغذوں کے مجموعہ کے بھی ہوتے ہیں جس پر کچھ لکھا جائے اور کتاب تحریر کو بھی کہتے ہیں اور کتاب کے معنی فرض اور حکم اور اندازہ کے بھی ہوتے ہیں اور کتاب خط کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) حَکِیْمٌ حَکِیْمٌ عالم، صَاحِبُ الْحِکْمَۃِ، یعنی حکمت والا۔اَلْمُتْقِنُ لِلْاُمُوْرِ۔تمام کاموں کو اچھی طرح کرنے والا۔جس کے کاموں کو کوئی بگاڑ نہ سکے(اقرب)۔اَلْمُحْکِمُ۔یعنی مضبوط(مفرد)۔حِکْمَۃٌ کے معنی ہیں۔عدل، علم، حلم، نبوت ، مَایَمْنَعُ مِنَ الْـجَھَالَۃِ۔یعنی ہر وہ بات جو جہالت سے روکے۔کُلُّ کَلَامٍ مُوَافِقٍ لِلْحَقِّ۔ہر وہ کلام جو سچائی کے مطابق ہو۔بعض کے نزدیک اس کے معنی وَضْعُ الشَّیْءِ فِی مَوْضِعِہٖ کے ہیں۔یعنی ہر امر کو اس کے مناسب حال طور پر استعمال کرنا۔اور صَوَابُ الْاَمْرِوَ سَدَادُہٗ بات کی حقیقت اور اس کا مغز۔(اقرب)