تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 241

بیان کرتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ اسلام بہرے کی طرح نہیں ہے کہ صرف اپنی مخصوص باتوں پر قانع رہے بلکہ وہ سننے والوں کی طرح ہے جو دوسروں کے علوم کو بھی لے لیتے ہیں اور اپنے علم کو کامل کرلیتے ہیں اور اس نے تمام مذاہب کی ایسی تعلیمات کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے جو مفید اور نفع رساںہیں اور ان کے علاوہ ایسی صداقتیں بھی پیش کی ہیں جو دوسرے مذاہب میں نہیں ہیں۔کافر و مسلم میں ایک اورطرح کا فرق دوسرے سَمِیْع اور اَصَمّ کا مقابلہ کرکے یہ فرق بھی بتایا ہے کہ اسلام میں الہام الٰہی کا درازہ کھلا ہے۔وہی کان سننے والا ہے جو خداتعالی کی آواز کو سنتا ہے اور درحقیقت کان اسی لئے پیدا کیا گیا ہے اور جو کان خدا تعالیٰ کی آواز کو نہیں سنتا وہ بہرہ ہے اور یہی فرق بصیر اور اعمٰی کے مقابلہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اسلام میں نشانات اور معجزات کا دروازہ کھلا ہے اور درحقیقت بینا وہی ہے جو اپنے رب کے تازہ نشانات کو دیکھتا ہے جو آنکھ خدا تعالیٰ کے معجزات اور نشانات کو نہیں دیکھتی وہ اندھی ہے۔چونکہ جلال الٰہی پردوں میں ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی آواز پردوں میں نہیں ہوتی اس لئے سننے کے لئے مبالغہ کا صیغہ یعنی سمیع (بہت سننے والا) استعمال فرمایا ہے اور دیکھنے کے لئے مبالغہ کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١ٞ اِنِّيْ لَكُمْ نَذِيْرٌ اور ہم نے یقیناً نوح کو اس کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا تھا (جس پر اس نے انہیں کہا تھا) کہ میں یقیناً تمہیں مُّبِيْنٌۙ۰۰۲۶ (کھول) کھول کر آگاہ (اور ہوشیار) کر نے والا (بنا کر بھیجا گیا )ہوں۔تفسیر۔اندھے اور سوجاکھے کے فرق کی ایک مثال چونکہ اس سے پہلے بیان فرمایا تھا کہ جھوٹے مدعی یا ان کے پیرو نہ سچے اور جھوٹے نبیوں کے انجام کو دیکھتے ہیں اور نہ ان کے حالات سنتے ہیں اور سچوں اور جھوٹوں کی مثال آنکھوں والے اور اندھے سے دی تھی۔اب اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے چند مثالوں کو پیش کیا ہے۔اور سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی مثال کو لیا ہے فرماتا ہے کہ نوح سچے نبیوں میں سے تھا۔اور اس نے نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اس کے حالات پر غور کرو۔سچا نبی ہمیشہ مبین ہوتا ہے سچے نبی کی زبردست نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ہوتا ہے۔