تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 240

لئے بمنزلہ نور ہے کہ جس سے روحانی راستوں کا علم ہوتا ہے پہچان لیتا ہے لیکن جو شخص سچائی کا منکر ہے اس کی روحانی آنکھ ماری جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے پہچاننے سے محروم رہ جاتا ہے اسی طرح سچائی کو پانے والا چونکہ خدا تعالیٰ کے الہام کا طالب ہوتا ہے وہ ٹھوکریں نہیں کھاتا۔بلکہ فوراً اپنے منزل مقصود کو پالیتا ہے۔اس کے برخلاف جو لوگ اپنی عقل سے کام لینے والے ہوتے ہیں وہ بھی گو کبھی صداقت کو پالیتے ہیں لیکن ہزاروں ٹھوکریں کھانے کے بعد۔اس کی ایک موٹی مثال حرمت شراب کی ہے۔اسلام نے تو اسے فوراً حرام کر دیا اور مسلمان رک گئے۔دوسری دنیا تیرہ سو سال دھکے کھانے کے بعداب اس کی برائیوں کی قائل ہونے لگی ہے۔تیسرا فرق بھی ظاہر ہے سچائی کے ماننے والے ایک اصل پر قائم ہوتے ہیں اور ان کے عقائد میں اختلاف نہیں ہوتا۔لیکن جھوٹ کے متبع نہیں جانتے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ بسا اوقات ایک سچائی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ان سچائیوں پر بھی حملہ کرجاتے ہیں جن کو وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔اسی وجہ سے قرآن کریم بار بار اپنے مخالفین کو توجہ دلاتا ہے کہ اسلام پر حملہ کرتے ہوئے تم اپنے مسلمات کو بھی بھول جاتے ہو۔اور نہیں جانتے کہ جو حملہ تم اپنے خیال میں اسلام پر کرتے ہو وہ خود تمہارے معتقدات پر پڑتا ہے۔بہرہ اور کا فر دوسری تشبیہ بہرے اور سننے والے کی دی ہے ان دونوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک دوسرے لوگوں کے تجربوں سے فائدہ اٹھالیتا ہے اور دوسرا اس سے محروم رہ جاتا ہے۔کیونکہ نہ وہ سنتا ہے نہ اسے دوسروں کے خیالات پر آگاہی حاصل ہوتی ہے۔یہی اسلام اور غیراسلام اور مسلم اور غیرمسلم میں فرق ہے۔اسلام اور مسلمان تو ساری سچائیوں کو اپنے اندر جمع کرلیتے ہیں لیکن اس کے دشمن صرف اپنے پرانے خیالات پر قانع ہیں۔وہ دوسری سچائیوں سے اپنےکانوں میں روئی ڈال کر غافل بیٹھے ہوئے ہیں۔اسی فرق کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے اشارہ فرمایا ہے کہ کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُوْمِنِ اَخَذَ ھَا حَیْثُ وَجَدَھَا (جامع ترمذی ابواب العلم باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ) حکمت کی بات تو مومن ہی کی گم شدہ چیز ہے وہ جہاں اسے پاتا ہے لے لیتا ہے۔غرض جو سچا مذہب ہوتا ہے وہ تمام سچائیوں کو اپنے اندر جمع کرلیتا ہے۔اور جھوٹا ضد اور تعصب کو اختیار کرتا ہے۔ہر صداقت کو اپنی چیز سمجھنے کی تعلیم اور دشمن کا اس پر اعتراض کیا عجیب بات ہے کہ وہی بات جسے دشمن اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اسی کو خوبی کی دلیل قرار دے کر بیان کیا گیا ہے۔دشمن کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب کی صداقتوں کو اسلام اپنے اندر لے آیا ہے۔اس لئے و ہ چور ہے۔لیکن قرآن کریم اسی اعتراض کو بطور خوبی