تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 239
اعمال صالحہ ہی کافی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر یقین اور تسلی اور اس سے محبت کی بھی ضرورت ہے۔جس طرح بچہ ماں کے پاس جاکر تسلی پاتا ہے یہی حال اس شخص کا ہونا چاہیےجو روحانیت میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت ہو اور اس پر اعتماد کامل ہو اور اس کی طرف رجوع ہو۔جب تک یہ بات حاصل نہ ہوگی کبھی بھی قرب الٰہی نصیب نہ ہوگا۔مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِيْرِ وَ السَّمِيْعِ١ؕ ان دونوں گروہوں کی حالت ایک اندھے اور بہرے اور ایک بینا اور خوب سننےوالے کی( حالت کی) طرح ہے۔هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَؒ۰۰۲۵ کیا ان (دونوں) کی حالت برابر ہو سکتی ہے (تو) کیا پھر (بھی) تم نہیں سمجھتے۔حلّ لُغَات۔فَرِیْقٌ اَلْفَرِیْقُ الطَّائِفَۃُ مِنَ النَّاسِ اَکْثَرُ مِنَ الْفِرْقَۃِ۔لوگوں کا ایک گروہ۔لیکن یہ لفظ فرقہ کی نسبت زیادہ کثرت افراد کو ظاہر کرتا ہے۔وَرُبَّمَا اُطْلِقَ الفَرِیْقُ عَلَی الْجَمَاعَۃِ قَلَّتْ اَوْکَثُرَتْ۔اور بعض دفعہ یہ لفظ مطلق جماعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔خواہ وہ چھوٹی جماعت ہو یا بڑی۔(اقرب) تفسیر۔أَعْمٰی اور أَصَمّ کا لفظ اور کفر کی حقیقت اس آیت میں ایمان و کفر کا مقابلہ کیا ہے۔مومن کو بینا قرار دیا ہے اور کافر کو اندھا۔اور مومن کو سننے والا اور کافر کو بہرا۔قرآن کریم گالی نہیں دیتا بلکہ حقائق بیان کرتا ہے۔پس ہم یہ خیال نہیں کرسکتے کہ کافر کو یونہی اس نے اندھا اور بہرا کہہ دیا ہے۔اس مثال میں یقیناً کفر کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور اس امر کو سمجھنے کے لئے ہمیں اندھے اور بہرے اور بینا اور سننے والے کے فرق کو معلوم کرنا چاہیے۔پہلے ہم نابینا اور بینا کو لیتے ہیں۔سو سب سے پہلا فرق ہمیں ان دونوں میں یہ نظر آتا ہے کہ بینا تو نور کو دیکھ سکتا ہے لیکن اندھا نہیں دیکھ سکتا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی محبت رکھنے والے ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کلام کو پہچان لیتے ہیں لیکن دوسرے نہیں پہچان سکتے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اندھا فوراً اپنی مقصود چیز تک نہیں پہنچ سکتا۔بلکہ ٹھوکریں کھاتا ہوا اور ٹٹولتا ہوا پہنچتا ہے۔اس کے برخلاف بینا اپنی مقصود چیز تک فوراً پہنچ جاتا ہے۔تیسرا فرق یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت اندھا اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرسکتا۔بالکل ممکن ہے کہ اپنے ساتھی ہی کو مار بیٹھے لیکن بینا یعنی آنکھوں والا دشمن کو دیکھ کر اس پر حملہ کرتا ہے۔یہی فرق سچے دین کے متبع اور اس کے منکر میں ہوتا ہے۔سچے دین کا متبع خدا تعالیٰ کے منشاء کو جو روحانیت کے