تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 235

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ جو اللہ (تعالیٰ کی طرف پہنچنے )کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔اوراس کی کجی چاہتے ہیں۔اور یہی (لوگ) پیچھے هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۲۰ آنے والی (گھڑی) کے( سب سے بڑے) منکر (ہوتے) ہیں۔حلّ لُغَات۔عِوَجٌ اَلْعِوَجُ اِسْمٌ لِضِدِّ الْاِسْتِقَامَۃِ ٹیڑھا ہونا۔اَلْاِنْحِنَاءُ کجی۔وَالْعِوَجُ یَکُوْنُ فِی الْمَعَانِی کَمَا یَکُوْنُ اَلْعَوَجُ فِی الْاَجْسَامِ جس طرح جسموں کے ٹیڑھا ہونے کے لئے عَوَجَ کا لفظ ہوتا ہے اسی طرح معانی و صفات کی کجی اور نادرستی کے لئے عِوَجٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔يَبْغُوْنَهَا عِوَجًاکے معنی وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًاکے دو معنی ہیں۔اول یہ کہ اس کے لئے کجی چاہتے ہیں۔عربی میں کہتے ہیں بَغَیْتُکَ الشَرَّ أَیْ طَلَبْتُ لَکَ الشَّرَّ(فتح البیان زیر آیت ھٰذا )۔مطلب یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس میں کجی آجاوے۔وہ بگڑ جائے۔یعنی صرف لوگوں کو ہی نہیں روکتے بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس کی خوبی بھی لوگوں کی نگہ سے پوشیدہ ہو جائے اور ایسے طریق اختیار کرتے ہیں کہ لوگوں کی نظر سے کلام الٰہی کا حسن مخفی رہے۔اور اس میں لوگوں کو عیوب نظر آنے لگیں۔یہ ایک عام حربہ ہے جو حق کے دشمن چلایا کرتے ہیں۔وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ حق کا حسن پوشیدہ ہوجائے۔اور ایسے ایسے جھوٹے الزام تراشتے ہیں کہ جن کو سن کر ناواقف لوگ خوبی کو بھی عیب دیکھنے لگتے ہیں۔دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یَبْغُوْنَہَا میں لِاَھْلِ کو محذوف سمجھا جائے۔اور مراد یہ ہو کہ جو لوگ اللہ کے راستہ پر چلنے والے ہیں ان کے لئے کجی چاہتے ہیں یعنی انہیں گمراہ کرنا یا تکلیف میں ڈالنا چاہتے ہیں۔یہ معنی بھی مذکورہ بالا محاورہ ہی کے ماتحت آتے ہیں۔اُولٰٓىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ یہ (لوگ) ملک میں( الٰہی سلسلوں کو) عاجز کر دینے والے نہیں ہوتے اور نہ (ہی) اللہ (تعالیٰ) کو چھوڑ کر ان کے کوئی مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ١ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا (دوست و ) مددگارہوتے ہیں ان کو دوہرا عذاب دیا جاتا ہے (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) وہ (کچھ بھی)