تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 231

سامنے وہ صداقت آگئی ہو وہ اس کو دو پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔(۱) کیا اس کی ذات میں کوئی ایسا ثبوت موجود ہے جس سے اس کا سچائی ہونا ثابت ہوتا ہو؟ (۲) اس سچائی کے متعلق جو پہلی کتب میں خبریں تھیں کیا وہ اس کے ذریعہ سے پوری ہوجاتی ہیں؟ جب یہ زمانہ بھی گزر جاتا ہے اور ایسے لوگ دنیا میں پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے یہ سب باتیں قصہ ہوجاتی ہیں تو ان کے لئے ایک تیسری شہادت پیدا کی جاتی ہے اور وہ اس صداقت کے ثمرات ہیں۔وہ لوگ علاوہ پہلی دونوں قسم کی دلائل کے اس امر پر بھی غور کرسکتے ہیں کہ اس صداقت کے ثمرات کیا پیدا ہوئے ؟اور اگر اس کے ثمرات ان کے زمانہ تک پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ صداقت ان کے زمانہ سے بھی ویسا ہی تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پہلے زمانوں سے۔ان شہادتوں کی ترتیب درجہ کے لحاظ سے اندرونی شہادت سب سے اہم ہوتی ہے کیونکہ وہ زمانۂ حال اور آئندہ دونوں زمانوں کے لوگوں کے لئے گواہ ہوتی ہے۔اور نیز اس لئے کہ وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ کرنے کی زحمت سے آزاد کردیتی ہے اور خود اپنی ذات میں ہی صداقت کو ثابت کر دیتی ہے۔دوسرے نمبر پر اس دلیل کو اہمیت حاصل ہوتی ہے جو صداقت کے ثمرہ کے طور پر آتی ہے۔اس لئے کہ وہ بھی بعد میں آنے والے مخاطبین کے لئے ضروری ہے اگر وہ نہ ہو تو بعد میں آنے والوں کے لئے صداقت مشتبہ رہے۔کیونکہ کسی چیز کا خالی صداقت ثابت ہونا اس پر عمل کرنے کے لئے کافی محرک نہیں ہوتا۔بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ یہ بھی ثابت کیا جائے کہ وہ صداقت موجودہ زمانہ میں بھی قابل عمل ہے۔اور یہ بات نہیں ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور صداقت ظاہر ہوکر اسے منسوخ کرچکی ہے۔اور جب کسی صداقت کے تازہ ثمرات ظاہر ہوتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ صداقت موجودہ زمانہ کے لئے بھی ویسی ہی مفید ہے جیسے کہ گزشتہ زمانہ کے لوگوں کے لئے تھی۔تیسرے نمبر پر اہمیت ان گزشتہ پیشگوئیوں کو حاصل ہوتی ہے جو لوگوں کو کسی صداقت کی امید دلاتی چلی آئی ہوں۔یہ دلیل بھی اپنی ذات میں کارآمد ہوتی ہے کیونکہ ایمان کے لئے لوگوں کے دلوں کو تیار رکھتی ہے۔گو اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کے زمانہ میں وہ صداقت ظاہر ہو جس کی خبر پیشگوئیوں میں دی گئی ہو۔قرآن کریم کی تائید میں ان تینوں قسم کے دلائل کو پیش کیا گیا ہے۔وہ اپنی ذات میں بھی صداقت کے ثبوت رکھتا ہے۔اس سے پہلے کی کتب میں بھی اس کی تصدیق موجود ہے اور بعد میں بھی اس کے ثمرات ایسے طور پر ظاہر ہوتے رہیں گے کہ لوگوں کو اس کے انکار کی گنجائش نہ ہوسکے گی۔چنانچہ سب سے پہلے فرماتا ہے کہ قرآن کریم یا اس کا لانے والا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے ساتھ ایسے دلائل رکھتا ہے جو قطعی طور پر ثابت کرتے